بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایل ایس ڈی بیماری کی وجہ سے بیمار جانوروں کی قربانی کاحکم


سوال

 ہندوستان میں تقریباًسارے جانور "ایل ایس ڈی"lumpy skin disease(یعنی گلٹی دار جلدی  بیماری )کاشکارہوگئے،جن میں سے کچھ مر گئےاور کچھ بچ گئے، جوبچ گئے وہ ٹھیک ہو گئے ہیں ،اور ان کے جسم پر ظاہری طور پر کوئی نشان نہیں ، کیا اب ان جانوروں کی قربانی جائزہوگی یانہیں؟

جواب

واضح رہےکہ  اگر کوئی جانور ایسا بیمار ہوگیاہو ،کہ وہ کم زوری  اور  لاغر پن کی وجہ سے قربان گاہ تک اپنے پاؤں پر چل کر نہیں جا سکتاہو، اور بیماری کا اثر گوشت تک پہنچ گیا ہوتو ایسے بیمار جانور کی قربانی کرنا درست نہیں ہے،لیکن اگر ایسا جانور قربان گاہ تک اپنےپاؤں پرچل  کرجاسکتاہو اور  بیماری کی وجہ سےان جانوروں کا گوشت متاثرنہ ہواہوتوایسےجانور وں کی قربانی کرناشرعاًدرست ہے،لہٰذاصورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃًایل ایس ڈی(لمپی اسکین ڈیزیز) بیماری کےبعد جوجانور بچ گئےہیں،اوراب ٹھیک ہوچکےہیں،اگربیماری کی وجہ سےان جانوروں کاگوشت متاثرہواہو،توایسی صورتِ میں ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ورنہ جائز ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(وأما صفته) : فهو أن يكون ‌سليما ‌من ‌العيوب الفاحشة، كذا في البدائع. ويجوز بالجماء التي لا قرن لها، وكذا مكسورة القرن، كذا في الكافي....ولا تجوز العمياء والعوراء البين عورها، والعرجاء البين عرجها وهي التي لا تقدر أن تمشي برجلها إلى المنسك، والمريضة البين مرضها."

(كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:297، ط: دار الفكر بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ويضحي بالجماء والخصي والثولاء) أي المجنونة (إذا لم يمنعها من السوم والرعي) (، وإن منعها لا) تجوز التضحية بها (والجرباء السمينة) فلو مهزولة لم يجز، لأن الجرب في اللحم نقص (لا) (بالعمياء والعوراء والعجفاء) المهزولة التي لا مخ في عظامها (والعرجاء التي لا تمشي إلى المنسك) أي المذبح، والمريضة البين مرضها (ومقطوع أكثر الأذن أو الذنب أو العين) أي التي ذهب أكثر نور عينها فأطلق القطع على الذهاب مجازا، وإنما يعرف بتقريب العلف (أو) أكثر (الألية) لأن للأكثر حكم الكل بقاء وذهابا فيكفي بقاء الأكثر، وعليه الفتوى مجتبى (ولا) (بالهتماء) التي لا أسنان لها، ويكفي بقاء الأكثر، وقيل ما تعتلف به (والسكاء) التي لا أذن لها خلقة فلو لها أذن صغيرة خلقة أجزأت زيلعي (والجذاء) مقطوعة رءوس ضرعها أو يابستها، ولا الجدعاء: مقطوعة الأنف، ولا المصرمة أطباؤها: وهي التي عولجت حتى انقطع لبنها، ولا التي لا ألية لها خلقة مجتبى، ولا بالخنثى لأن لحمها لا ينضج شرح وهبانية، وتمامه فيه (و) لا (الجلالة) التي تأكل العذرة ولا تأكل غيرها."

(كتاب الأضحية، ج:6، ص:323، ط: سعيد)

فتح القدیر میں ہے:

"ويجوز ان يضحي بالجرباء ‌إن ‌كانت ‌سمينة ‌جاز لأن الجرب في الجلد ولا نقصان في اللحم، وإن كانت مهزولة لا يجوز لأن الجرب في اللحم نقص ."

(كتاب الأضحية، ج:9، ص:515، ط:دار الفكر، بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"والجرباء السمينة) فلو مهزولة لم يجز، لأن الجرب في اللحم نقص."

(كتاب الأضحية، ج:6، ص:323، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144412100501

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں