بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا یہودی عیسائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہیں؟


سوال

غیر مسلم یہودی عیسائی وغیرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہیں یا نہیں؟

جواب

نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں  کے لیے نبی بنا کر بھیجا ہے، جو لوگ ایمان لائے وہ  امت اجابت کہلائے اور جو ایمان نہیں لائے وہ امت دعوت کہلاتے ہیں، لہذا یہودی عیسائی آپ صلی  اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہیں اور یہ امت دعوت کہلاتے ہیں۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِي فَآمِنُوا بِاللَّتُهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ(سورۃ الاعراف، آیت نمبر۱۵۸)

ترجمہ: ’’تو کہہ اے لوگو! میں رسول ہوں اللہ کا  تم سب کی طرف، جس کی حکومت ہے آسمانوں میں ، کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا، وہی جِلاتا ہے اور مارتا ہے سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی امی پر جو کہ یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے سب کلاموں پر اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘

ف: ”یعنی: آپ کی بعثت تمام دنیا کے لوگوں کو عام ہے- عرب کے امیین یا یہود ونصارٰی تک محدود نہیں- جس طرح خداوندتعالیٰ شہنشاہ مطلق ہے، آپ اس کے رسول مطلق ہیں۔ اب ہدایت وکامیابی کی صورت بجز اس کے کچھ نہیں کہ اس جامع ترین عالمگیر صداقت کی پیروی کی جائے جو آپ لے کر آئے ہیں ، یہی پیغمبر ہیں جن پر ایمان لانا تمام انبیاء ومرسلین اور کتب سماویہ پر ایمان لانے کا مرادف ہے“۔

(ماخوذ از تفسیر عثمانی، ص: ۲۲۶)

البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج میں ہے:

"وقال الطيبي أيضا: قال الشارحون: "الأمة" جمع لهم جامع من دين، أو زمان، أو مكان، أو غير ذلك، فإنه مجمل يطلق تارة، ويراد به كل من كان هو مبعوثا إليهم، آمن به، أو لم يؤمن، ويسمون أمة الدعوة، ويطلق تارة أخرى، ويراد به المؤمنون به، والمذعنون له، وهم أمة الإجابة، والمعنى الأول هو المراد هنا بدليل قوله: "ولم يؤمن بي"، واللام فيها للاستغراق، أو الجنس، أو العهد، والمراد بها أهل الكتاب، ويعضد الأخير توصيف الأحد باليهود والنصارى، وفي تخصيص ذكر اليهودي والنصراني، وهما من أهل الكتاب إشعار بأن حال المعطلة، وعبدة الأوثان، وأضرابهم آكد، وهم أولى بدخول النار.وتلخيص المعنى أن كل واحد من هذه الأمة إذا يسمع بي، وتبين له صدقي، ثم لا يؤمن برسالتي، ولم يصدق بمقالتي، كان من أصحاب النار، سواء الموجود، ومن سيوجد. انتهى كلام الطيبي ببعض تصرف".

(البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج، المؤلف: محمد بن علي بن آدم بن موسى الإتيوبي الولوي، كتاب الإيمان، ج: ۴، صفحہ: ۲۴۲، ط: دار ابن الجوزي)

 فيض القدير شرح الجامع الصغير میں ہے:

"أمتي أمة مباركة لا يدرى أولها خير"...{تنبيه} الأمة جمع لهم جامع من دين أو زمان أو مكان أو غير ذلك فإنه مجمل يطلق تارة ويراد بها كل من كان مبعوثا إليهم نبي آمنوا به أو لم يؤمنوا ويسمون أمة الدعوة وأخرى ويراد بهم المؤمنون به المذعنون له وهم أمة الإجابة وهذا المراد هنا". 

(حرف الهمزة ،ج: ۲، صفحہ: ۱۸۴، رقم الحدیث: ۱۶۲۰، ط:  المكتبة التجارية الكبرى - مصر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507102102

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں