بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کیا ویڈیو کال کے ذریعہ رویت ہلال کی گواہی دی جاسکتی ہے؟


سوال

کیا ویڈیو کال کے ذریعے چاند کی گواہی قبول کی جا سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ رویت ہلال کے شرعا  معتبر ہونے کی بنیادی شرائط درجہ ذیل ہیں، جن کی پاسداری کرنا شرعا ضروری ہوتا ہے:

1۔   مسلمان جو عاقل ، بالغ ، بینا اورعادل ہو وہ  قاضی یا رویت ہلال کمیٹی کے سامنے لفظ شہادت کے ساتھ چاند دیکھنے کی گواہی دے۔قاضی یا رویت ہلال کمیٹی کے سامنے  حاضر ہونا ضروری ہے صرف ٹیلیفون یا کسی اور  ذریعہ گواہی ارسال کرنے سے گواہی معتبر نہیں ہوتی۔

گواہ کے عادل نہ ہونے کی صورت میں قاضی یا رویت ہلال کمیٹی پر گواہی کا اعتبار کرنا واجب نہیں ہوتا،  یعنی   قاضی یا رویت ہلال کمیٹی  اگر  فاسق شخص کو اس معاملہ میں سچا سمجھے، تو گواہی قبول کرے،  ورنہ گواہی ترک کردے۔

2۔  اگر گواہ خود حاضر نہیں ہوسکتا تو وہ اپنی گواہی پر دو لوگوں کو گواہ بنائے اور وہ اس گواہ کی گواہی کو قاضی کے سامنے جا کر بیان کریں جس کو شرعی اصطلاح میں شہادت علی الشہادت کہا جاتا ہے۔

3۔  رمضان کے چاند میں  مطلع صاف ہونے کی صورت میں جم غفیر کی گواہی ضروری ہے۔

4۔  عیدین کے چاند میں مطلع صاف نہ ہونے کی صورت میں دو مرد یا ایک مرد دو عورتوں کی گواہی معتبر ہے اور مطلع صاف ہونے کی صورت میں جم غفیر کی گواہی ضروری ہے۔

5۔ رمضان اور عیدین کے چاند کے علاوہ باقی نو مہینوں میں ہر صورت میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہی معتبر ہوگی۔

6۔ رمضان کے چاند میں  جب مطلع صاف نہ ہو تو ایک ثقہ مرد یا عورت کی گواہی کافی   ہوتی ہے اور ماقبل کی شہادتوں کی طرح اس میں لفظ شہادت بھی ضروری نہیں ہے کیونکہ شریعت نے    اس کو خبر شمار کیا ہے نہ کہ شہادت لہذا ایک ثقہ  مرد اور عورت کی خبر دینا بھی کافی ہوگا۔ 

7۔  پھر ان شرائط کے ساتھ خبروں پر اطمینان کر کے قاضی یا رویت ہلال کمیٹی ہلال کی رویت کا اعلان کردے اور اگر قاضی یا رویت ہلال کمیٹی پورے ملک کی ہو تو پھر یہ فیصلہ پورے  ملک کے لوگوں کے لیے معتبر ہوگا ، مثلا پاکستان کے ایک شہر میں موجود رویت ہلال کمیٹی کے نمائندہ نے رویت کی شہادتیں  وصول کرکے فیصلہ کردیا تو اب یہ فیصلہ پورے ملک کے لوگوں کے لیے   معتبر ہوگا۔ اور یہ فیصلہ کسی بھی جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعہ نشر   کردیا جائے تو وہ معتبر ہوگا۔

لہذا صورت مسئولہ میں محض  ویڈیو کال کے ذریعہ  رویت ہلال کی خبر دینا شرعا معتبر نہ ہوگا، قاضی یا رویت ہلال کمیٹی کے روبرو آکر گواہی دینا یا  چاند دیکھنے والے کا  چاند کی رویت پر دو گواہوں  مقرر کرکے انہیں قاضی یا رویت ہلال کمیٹی کے روبرو پیش کرنا ضروری ہوگا۔

نیز ملحوظ رہے کہ ویڈیو کال میں بھی جان دار کی تصویر دیکھنا یا دکھانا جائز نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إن كان بالسماء علة فشهادة الواحد على هلال رمضان مقبولة إذا كان عدلا مسلما عاقلا بالغا حرا كان أو عبدا ذكرا كان أو أنثى، وكذا شهادة الواحد على شهادة الواحد وشهادة المحدود في القذف بعد التوبة في ظاهر الرواية هكذا في فتاوى قاضي خان. وأما مستور الحال فالظاهر أنه لا تقبل شهادته وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه تقبل شهادته، وهو الصحيح كذا في المحيط. وبه أخذ الحلواني كذا في شرح النقاية للشيخ أبي المكارم.

وتقبل شهادة عبد على شهادة عبد في هلال رمضان، وكذا المرأة على المرأة، ولا تقبل شهادة المراهق، ولا يشترط في هذه الشهادة لفظ الشهادة، ولا الدعوى، ولا حكم الحاكم حتى إنه لو شهد عند الحاكم وسمع رجل شهادته عند الحاكم وظاهره العدالة وجب على السامع أن يصوم، ولا يحتاج إلى حكم الحاكم، وهل يستفسره في رؤية الهلال، قال أبو بكر الإسكاف: إنما تقبل إذا فسر بأن قال رأيته خارج المصر في الصحراء أو في البلد بين خلل السحاب.

وفي ظاهر الرواية أنه تقبل بدون هذا، وإذا رأى الإمام أو القاضي هلال رمضان وحده فهو بالخيار بين أن ينصب من يشهد عنده وبين أن يأمر الناس بالصوم بخلاف هلال الفطر والأضحى كذا في السراج الوهاج إذا رأى الواحد العدل هلال رمضان يلزمه أن يشهد بها في ليلته حرا كان أو عبدا ذكرا كان أو أنثى، حتى الجارية المخدرة تخرج وتشهد بغير إذن مولاها، والفاسق إذا رآه وحده يشهد؛ لأن القاضي ربما يقبل شهادته لكن القاضي يرده كذا في الوجيز للكردري. هذا في المصر، وأما في السواد إذا رأى أحدهم هلال رمضان يشهد في مسجد قريته، وعلى الناس أن يصوموا بقوله بعد أن يكون عدلا إذا لم يكن هناك حاكم يشهد عنده كذا في المحيط.

رجل رأى هلال رمضان وحده فشهد، ولم تقبل شهادته كان عليه أن يصوم، وإن أفطر في ذلك اليوم كان عليه القضاء دون الكفارة، وإن أفطر قبل أن يرد القاضي شهادته فالصحيح أنه لا تجب عليه الكفارة كذا في فتاوى قاضي خان. ولو شهد فاسق وقبلها الإمام، وأمر الناس بالصوم فأفطر هو وواحد من أهل بلده قال عامة المشايخ: تلزمه الكفارة كذا في الخلاصة."

( كتاب الصوم، الباب الثاني في رؤية الهلال، ١ / ١٩٧ - ١٩٨، ط: دار الفكر)

نیل الاوطار میں ہے:

"وثانيها: أنه لايلزم أهل بلد رؤية غيرهم إلا أن يثبت ذلك عند الإمام الأعظم فيلزم كلهم؛ لأن البلاد في حقه كالبلد الواحد إذ حكمه نافذ في الجميع، قاله ابن الماجشون".

(4 / 230، باب الهلال إذا رآه أهل بلدة هل يلزم بقية البلاد الصوم، ٤ / ٢٣٠، ط؛ دار الحديث، مصر)

فتاوی تتارخانیہ میں ہے:

"الفتاوی النسفیة: سئل عن قضاء القاضي برؤیة هلال شهر رمضان بشهادة شاهدین عند الاشتباه في مصر، هل یجوز لأهل مصر آخر العمل بحکمهم؟ فقال:لا، ولایکون مصرآخر تبعاً لهذا المصر، إنما سکان هذا المصر وقراها یکون تبعاً لهم."

( کتاب الصوم، الفصل الثاني في رؤية الهلال، ٣ / ٣٦٥ ط؛ مكتبة زکریا ، دیوبند)

 زبدۃالمقال فی رؤیۃالھلال   میں ہے:

"إذا ثبت الصوم أو الفطر عند حاکم تحت قواعد الشرع بفتوی العلماء أو عند واحد أو جماعة من العلماء الثقات ولاّهم رئیس المملکة أمر رؤیة الهلال، وحکموا بالصوم أو الفطر  ونشروا حکمهم هذا في رادیو، یلزم علی من سمعها من المسلمین العمل به في حدود ولایتهم، وأما فیما وراء حدود ولایتهم فلا بد من الثبوت عند حاکم تلک الولایة بشهادة شاهدین علی الرؤیة أو علی الشهادة أو علی حکم الحاکم أو جاء الخبر مستفیضاً، لأن حکم الحاکم نافذ في ولایته دون ما وراءها."

 (زبدة المقال في رؤیة الهلال،  بحواله خیر الفتاوی،٤ / ١١٨، ط: مکتبة الخیر ملتان)

 جواہر الفقہ میں ہے:

" اور  جس طرح  ایک شہر کے قاضی یا ہلال کمیٹی کا فیصلہ اس شہر اور اس کے مضافات کے لیے واجب العمل ہے، اسی طرح اگر کوئی قاضی یا مجسٹریٹ یا ہلال کمیٹی  پورے ضلع یا صوبہ یا پورے ملک  کے لیے ہو تو اس کا فیصلہ  اپنے اپنے حدود ولایت میں واجب العمل ہوگا"۔

( مسئلہ رؤیت ہلال،٣ / ٤٨٤،   ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308102252

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں