بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا تجدیدِ نکاح میں گواہوں کا ہونا ضروری ہے؟


سوال

طلاقِ بائن میں نکاح کی کیا صورت ہو گی؟ کیاگواہ اور نکاح خواں بھی ضروری ہیں اس میں؟

جواب

 ایک یا دو طلاق بائن ہونے کی صورت میں باہمی رضا مندی سے تجدیدِ نکاح جائز ہوتا ہے، تجدیدِ نکاح کی بھی وہی شرائط و مستحبات  ہیں جو ایک عام نکاح کے ہوتے ہیں، یعنی خطبہ نکاح پڑھنا، مہر کا مقرر ہونا اور دو مرد گواہوں یا ایک مرد اور دو بالغ خواتین کے سامنے دولہا اور دولہن کا با ضابطہ  ایجاب و قبول کرنا، تاہم مستقل نکاح خواں کا موجود ہونا ضروری نہیں، جو بھی ایجاب و قبول کروائے وہی نکاح خواں کہلائے گا، البتہ ایجاب و قبول کے وقت  گواہوں کا  موجود ہونا شرعاً ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111200669

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں