بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا تبلیغی جماعت گمراہ ہے؟


سوال

 ہمارے یہاں ایک صاحب کہتے ہیں کہ تبلیغی جماعت گمراہ ہے ، ہم نے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص انفرادی طور پر باطل عقیدوں کا شکار ہو گیا ہو،  پس پوری جماعت کو گمراہ نہیں کہا جا سکتا ہے،  تو ان کا کہنا ہے کہ تبلیغ سے لگے افراد بھی گمراہ ہیں اور اکابرین بھی گمراہ ہیں ،  وہ اپنی بات پر مصر ہیں،  انہوں نے کہا ہے کہ آگے چل کر یہ ایک باطل فرقہ بن جائے گا، تو کیا ان کا یہ کہنا درست ہے؟

برائے مہربانی مدلل اور مفصل جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

تبلیغی  جماعت من الحیث الجماعت گمراہ نہیں، بلکہ عوام الناس کو دین سے جوڑنے کے لیے نہایت معین جماعت ہے،  البتہ اس جماعت سے جڑے افراد میں سے  کوئی شخص انفرادی طور پر غلط فکر یا عقیدہ کا حامل ہوتو یہ الگ بات ہے اس کی وجہ سے پوری جماعت کو متہّم اور    گمراہ قرار دینا درست نہ ہوگا۔

امداد المسائل (مفتی عبدالشکور ترمذیؒ) میں ہے: 

"حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ کی تبلیغی تحریک میں تعلیم وتعلم اوراصلاح وصلاح کے دونوں پہلوؤں کی رعایت ہے ، اگر حدود شرعیہ اورشرائط ٔ آداب کو ملحوظ رکھ کر اس میں حصہ لیا جائے تو منجملہ دوسرے طرق تبلیغ کے یہ طریقہ بھی مفید اورمستحسن ہے اوراس کے ثمرات وفوائد ظاہر وباہر ہیں لیکن تعلیم وتعلم یااصلاحِ اخلاق کے لئے ہر مسلمان پر گھر سے باہر نکلنا اورسفر کرنا فرض نہیں ہے، بس اس قدر ضروری اورفرض ہے کہ دینی ضروری علم حاصل کرے اور اپنے اخلاق کی درستگی کی کوشش میں لگارہے ،اس کا جوطریقہ بھی میسر ہو اس پر عمل کرنے سے یہ فرض ادا ہوجائے گا ،فرائض کا علم حاصل کرنا فرض ہے اورواجبات کا واجب اورسنن ومستحبات کا سنت ومستحب ہوگا البتہ جس شخص کے لئے دوسرا طریقہ اپنی اپنی دینی ضروریات کے سیکھنے کا میسر نہ ہوسکے ،اس کے لئے اسی طریقہ کو فرائض وواجبات کی حدتک سیکھنے کے لئے ضروری قرار دیا جائے گا اورباقی کے لئے مستحب وسنت اورہر مسلمان پر بقدر اس کے علم کے لازم ہے کہ وہ اپنے توابع اورمتعلقین ِاہل وعیال کو تبلیغ ِدین کرتا رہے اوراحکام ِشریعت بتلاتا اوراس پر عمل کی تاکید کرتا رہے اورہر وقت ’’کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ ‘‘کو پیش ِ نظر رکھ کر اپنی مسئولیت کا خیال رکھے اپنے گردوپیش اوراپنے ماحول میں بقدر استطاعت احکام دین کی تبلیغ اوراصلاح اخلاق کی سعی اورکوشش میں لگارہے ،اس مذکورہ خاص شکل کے علاوہ تبلیغ کی یہ خاص صورت نہ فرض عین ہے ،اورنہ ہی فرض کفایہ، البتہ قواعد ِشرعیہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ ایک مستحب اور مستحسن عمل ہے ،جو شخص فکرِ معاش سے فارغ ہوکر اورحقوقِ اہل وعیال کا انتظام کرکے اس پر عمل کرنا چاہے وہ ایک مستحب اورمستحسن عمل کرتا ہے ،جو نہیں کرتا اس پر شرعاً کوئی مؤاخذہ نہیں ہے، بشرطیکہ دوسرے طریقہ سے وہ اس فرض کی ادائیگی میں ساعی اورکوشاں رہتا ہے ۔" 

(تبلیغی جماعت سے متعلق سوالات وجوابات، ص: ١٠٨، ط:حقانیہ ساہیوال)

 آپ کے مسائل اور  انکا حل (از حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ  )میں ہے:

" سوال: زید کہتا ہے کہ وہ بات جو دین میں نئی پیدا کی گئی ہو بدعت ہے، اس تعریف کی رو سے مولانا محمد الیاس رحمہ اللہ کی تبلیغی جماعت کے موجودہ طریقہ کار یعنی زندگی میں چار ماہ، سال میں 40 دن، ہر ماہ میں سے روزہ، اور شب جمعہ وغيره بھی بہت ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائے راشدین اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین اور متقدمین بزرگوں کے ہاں تبلیغ کا یہ مخصوص کورس کہیں بھی نہیں ملتا، اور پھر اس مخصوص کورس پر تبلیغی حضرات کا نہایت ہی پابندی سے عمل کرنا کیا یہ کورس بدعت نہیں؟

زید کہتا ہے کہ اس نے ایک ثقہ راوی سے سنا ہے کہ مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند اور مولانا اسعد مدنی ابن مولانا حسین احمد مدنی نے بھی اس جماعت کو ناپسند فرمایا ہے، اس کے علاوہ زید مولانا عبدالسلام آف نوشہرہ خلیفہ خاص حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی کتاب شاہراہ تبلیغ کا حوالہ بھی دیتا ہے جو کہ تبلیغی جماعت کے خلاف لکھی گئی ہے اور جگہ جگہ اسے بدعت ثابت کیا ہے، واضح رہے کہ یہ کتاب راقم الحروف کے پاس بھی موجود ہے۔

جواب: دین کی دعوت و تبلیغ تو اعلیٰ درجے کی عبادت ہے، اور قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی میں جابجا اس کی تاکید موجود ہے، دین سیکھنے اور سکھانے کے لیے جماعتِ تبلیغ وقت فارغ کرنے کا جو مطالبہ کرتی ہے، وہ بھی کوئی نئی ایجاد نہیں، بلکہ ہمیشہ سے مسلمان اس کے لیے وقت فارغ کرتے رہے ہیں، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تبلیغی وفود بھیجنا ثابت ہے۔ رہی سہ روزہ، ایک چلہ، تین چلہ اورسات چلہ کی تخصیص، تو یہ خود مقصود نہیں، بلکہ مقصود یہ ہے کہ مسلمان دین کے لیے وقت فارغ کرنے کے تدریجاً عادی ہوجائیں اوران کورفتہ رفتہ دین سے تعلق اور لگاؤ پیداہوجائے، پس جس طرح دینی مدارس میں نوسالہ، سات سالہ کورس (نصاب) تجویز کیا جاتا ہے، اور آج تک کسی کو اس کے بدعت ہونے کا وسوسہ بھی نہیں، اسی طرح تبلیغی اوقات کو بھی بدعت کہناصحیح نہیں۔

آپ کے ثقہ راوی کی روایت حضرت حکیم الاسلام مولانا محمد طیب صاحب مدظلہ، حضرت شیخ الاسلام مدنی رحمہ اللہ ، اور حضرت مولانا محمد اسعد مدنی مدظلہ نے جماعت تبلیغ کو ناپسند قرار دیا ہے، میرے علم کی حد تک صحیح نہیں، اس کے برعکس ان بزرگوں کا تبلیغی اجتماعات سے خطاب کرنا اور اوقات کا مطالبہ کرنا میرے علم ہے۔

 حضرت قاضی عبدالسلام صاحب مدظلہ کی کتاب میری نظر سے گزری ہے اس میں نہ تو اس تبلیغی کام کو غلط کہا گیا ہے، نہ خاص اوقات کے مطالبے کو، بلکہ بعض افرادِ جماعت جو غلطیاں کرتے ہیں اور بعض خام لوگوں کا جو ذہن غلط بن جاتا ہے، اس کی اصلاح کی گئی ہے۔ حضرت قاضی صاحب مدظلہ کی نگارشات سے مجھے اتفاق نہیں، اور کتاب کا لب و لہجہ بھی کافی سخت ہے۔ تاہم نفسِ تبلیغ کو وہ بھی غلط نہیں کہتے، ہماری گفتگو نفس تبلیغ ہی سے متعلق ہے۔ راقم الحروف اپنے عوارض و مشاغل کی وجہ سے تبلیغی جماعت کے نظام میں عملی حصہ نہیں لے سکتا، لیکن پورے شرح صدر کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ اس جماعت کے ظاہر و باطن اور اصول و فروع کو خوب جانچ پرکھ کر دیکھا ہے، میرے علم میں اس سے بہتر اسلام کی داعی کوئی جماعت نہیں، جو لوگ کسی درجے میں بھی اس جماعت کے کام میں حصہ لے سکتے ہیں ان کو اس سعادت سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے، اور جو کسی وجہ سے اس میں حصہ نہیں لے سکتے، کم از کم درجے میں ان کو اس کام کے حق میں کلمہ خیر ضرور کہنا چاہیے، مخلص خدامِ دین کی مخالفت بڑی سنگین بات ہے۔ من عادي لي وليا فقد آذنته بالحرب۔"

( آپ کے مسائل اور انکا حل، تبليغ دين، بعنوان: کیا موجودہ تبلیغی جماعت کا کورس بدعت ہے؟، ٨ / ٢٠١ - ٢٠٢، ط: مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404100871

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں