بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1444ھ 04 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کیا شمالی وزیرستان والے رمضان و عید افغانستان کے ساتھ کرسکتے ہیں؟


سوال

 پاکستان میں ایک علاقہ ہے، شمالی وزیرستان، جو افغانستان کے بارڈر کے ساتھ ہے ،دریافت طلب امر یہ ہے کہ شمالی وزیرستان میں رمضان کے روزے اور عید میں بہت شدید اختلافات ہوتے ہیں، حتی کہ ایک گھر میں کسی کا روزہ ہوتا ہے اور کسی کا نہیں اسی طرح عید بھی ہے، یہ اس وجہ کہ کوئی سعودی عرب کے ساتھ عید وروزہ رکھتے ہیں اور کوئی (وزیرستان میں ایک علاقہ ہے جو کہ ہر مہینہ کا چاند دیکھتے ہیں،جب وہ روزے یا عید کا چاند دیکھ لیتے ہیں تو بعض علماء اس کا شہادت قبول کرتے ہیں اور بعض نہیں تو اس وجہ سے بھی اختلاف پیدا ہوجاتا ہے) اپنے علاقے والوں کے ساتھ اور کوئی ہلال کمیٹی کے ساتھ، میرا مقصد یہ ہے کہ شمالی وزیرستان میں بہت شدید اختلافات ہوتے ہیں اس مسئلہ میں ، اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا شمالی وزیرستان کے لوگ افغانستان کے ساتھ عید اور رمضان المبارک کے روزے رکھ سکتے ہیں، جبکہ وہاں پر (افغانستان) میں ایک اسلامی نظام قائم ہے اور ہے بھی  حنفی مذھب کے لوگ اور دونوں کے درمیان (شمالی وزیرستان اور افغانستان) کوئی فاصلہ بھی نہیں ہے اور امید بھی ہے ان شاء اللہ کہ اختلاف بھی ختم ہو جائے گا اور اتفاق بھی پیدا ہوگا ،افغانستان کے ساتھ روزے رکھنے میں اور عید کرنے میں اور افغانستان میں اب امارات اسلامی خود  اپنی شہادت پر رمضان کے روزے اور عید کرتے ہیں، لہذا اس مسئلہ کے بارے میں ہماری راہ نمائی فرمائیں کہ کیا ہم افغانستان کے ساتھ عید وروزہ کرسکتے ہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی اعتبار سے رمضان کا    روزہ  رکھنے اورعیدکرنےکا مدار چاند دیکھنے  پرہے، احادیثِ  مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کی تلقین فرمائی ہے کہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو  اور چاند دیکھ کر ہی افطار( یعنی عید  )کرو۔

صحيح البخاری میں ہے:

"قال أبو القاسم صلى الله عليه وسلم: «‌صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته، فإن غبي عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين."

(کتاب الصوم (3/ 27) ط: السلطانية)

چاند کے مطالع   مختلف ممالک  میں الگ الگ ہوتے ہیں،  جس کے سبب  مشاہدہ ہے   کہ چاند  کسی ملک  میں  نظر آجاتا ہے،  جب کہ  دیگر ممالک  میں چاند کی رؤیت نہیں ہوتی،پھر  بلادِ  بعیدہ(جو ملک اور شہر ایک دوسرے سے دور ہیں ) کی تعیین میں اقوال مختلف ہیں، علامہ شامی نے لکھا ہے کہ: بعض فقہاء فرماتےہیں: ایک مہینہ کی مسافت پر مطلع بدل جاتا ہے، اور فقہاء کی تصریحات کے مطابق تین دن کا سفر48  میل بنتا ہے تو اس کے حساب سے چارسو اسی میل کی مسافت پر مطلع تبدیل ہوگا۔ دوسرا قول یہ لکھا ہے کہ: چوبیس فرسخ پر مطلع بدل جائے گا  اور معارف السنن میں حضرت بنوری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ہر پانچ سو میل کی مسافت پر مطلع بدل جاتا ہے۔

چنانچہ معارف السنن میں ہے:

"وحققوا وقوع الاختلاف في المطلع بنحو خمسمائة ميل·"

(كتاب الصوم، ۵/ ۳۴۳ ط: مجلس الدعوة و التحقيق)

 لہذا   مطالع کے اس اختلاف  کی بنا پر متاخرین فقہاءِ کرام نے اختلافِ مطالع کا اعتبار کیا ہے،  اور آج کے دور میں اسی قول پر  فتوی ٰہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ  جب خلافت اسلامیہ قائم تھی  تو اس وقت  چونکہ تمام اسلامی  ممالک  ایک  مملکت  سمجھی جا تی تھی ،امیر ایک ہو تا تھا ،تو اس وقت    وہ ایک ہی رؤیت پر عمل کرتے  تھے، جب کہ آج کل مملکتیں بھی علیحد ہ ہیں، امیر اور بادشاہ، حکومتیں  بھی مختلف ہیں ،ایک ملک کا حکم دوسرے ملک والوں کے لیے  ماننا لازم بھی نہیں ہے ،اس  لیے اس زمانہ میں اگر طلوع و غروب میں اختلاف ہے تو اس کا اعتبار کرنا ضروری ہے ۔ نيزاگرکسی  ملک میں رویتِ ہلال کمیٹی مقرر ہو، جس کو سرکاری طور پر چاند ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے کا اختیار ہو تو ان کے اعلان کا اعتبار ہو گا ،قریبی ملک کے چاند کا اعتبار نہیں ہو گا ،لہذا صورتِ مسئولہ میں شمالی وزیرستان پاکستان میں رہنے والوں کے  لیے پاکستان کے مطلع کے اعتبار سے روزہ رکھنا ضروری ہے ،یعنی جب تک پاکستان والے چاند نہیں دیکھیں گے تب تک ان کے  لیےافغانستان کا اعتبار کر تے ہوئے روزہ رکھنا صحیح نہیں ، اور نہ ہی افغانستان  والوں کا چاند دیکھ کر روزہ رکھنا پاکستان والوں کے  لیے حجت  ہوگا، اور یہی حکم عید کا بھی ہے، ہاں یہ ممکن ہے کہ کبھی دونوں ملکوں میں ایک دن ہی رمضان کا چاند نظر آجائے، اسی طرح عید میں بھی اس کا امکان ہے۔

سنن ترمذی میں ہے:

"...... أخبرني كريب : أن أم الفضل بنت الحارث بعثته إلى معاوية بالشام، قال: فقدمت الشام فقضيت حاجتها واستهل علي هلال رمضان وأنا بالشام فرأينا الهلال ليلة الجمعة ثم قدمت المدينة في آخر الشهر، فسألني ابن عباس ثم ذكر الهلال فقال متى رأيتم الهلال ؟ فقلت رأيناه ليلة الجمعة فقال أأنت رأيته ليلة الجمعة ؟ فقلت رآه الناس وصاموا وصام معاوية، قال: لكن رأيناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين يوما أو نراه، فقلت ألا تكتفي برؤية معاوية وصيامه ؟ قال: لا هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم.

قال أبو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح غريب والعمل على هذا الحديث عند أهل العلم أن لكل أهل بلد رؤيتهم."

(کتاب الصوم،باب ماجاء لکل أهل بلد رؤیتهم،ج:1،ص:148،ط:قدیمی کتب خانه)

ترجمہ: ’’کریب کہتے ہیں کہ  امِ  فضل بنتِ  حارث نے مجھ کو امیر معاویہ کے پاس شام بھیجا، کریب کہتے ہیں: میں شام گیا اور ان کا کام پورا کیا، اسی اثنا میں رمضان آگیا، پس ہم نے جمعہ کی شب چاند دیکھا، پھر میں رمضان کے آخر میں مدینہ واپس آیا تو ابن عباس نے مجھ سے چاند کا ذکر کیا اور پوچھا کہ تم نے کب چاند دیکھا تھا؟  میں نے کہا:  جمعہ کی شب کو، ابن عباس نے فرمایا: تم نے خود دیکھا تھا؟  میں نے کہا: لوگوں نے دیکھا اور روزہ رکھا ،امیر معاویہ نے بھی روزہ رکھا۔ ابن عباس نے فرمایا:  ہم نے تو ہفتے کی رات چاند دیکھا تھا؛ لہذ اہم تیس روزے رکھیں گے یا یہ کہ عیدالفطر کا چاند نظر آجائے۔  کریب کہتے ہیں: میں نے کہا:  کیا آپ کے  لیے امیر معاویہ کا چاند دیکھنا اور روزہ رکھنا کافی نہیں؟  ابن عباس نے فرمایا:  نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح حکم دیا ہے۔‘‘

فتاوی شامی  ہے:

"(واختلاف المطالع) ورؤيته نهارا قبل الزوال وبعده (غير معتبر على) ظاهر (المذهب) وعليه أكثر المشايخ وعليه الفتوى بحر عن الخلاصة (فيلزم أهل المشرق برؤية أهل المغرب) إذا ثبت عندهم رؤية أولئك بطريق موجب كما مر، وقال الزيلعي: الأشبه أنه يعتبر لكن قال الكمال: الأخذ بظاهر الرواية أحوط.

(قوله: واختلاف المطالع) جمع مطلع بكسر اللام موضع الطلوع بحر عن ضياء الحلوم (قوله: ورؤيته نهارا إلخ) مرفوع عطفا على اختلاف ومعنى عدم اعتبارها أنه لا يثبت بها حكم من وجوب صوم أو فطر فلذا قال في الخانية فلا يصام له ولا يفطر وأعاده وإن علم مما قبله ليفيد أن قوله لليلة الآتية لم يثبت بهذه الرؤية بل ثبت ضرورة إكمال العدة كما قررناه فافهم (قوله: على ظاهر المذهب) اعلم أن نفس اختلاف المطالع لا نزاع فيه بمعنى أنه قد يكون بين البلدتين بعد بحيث يطلع الهلال له ليلة كذا في إحدى البلدتين دون الأخرى وكذا مطالع الشمس؛ لأن انفصال الهلال عن شعاع الشمس يختلف باختلاف الأقطار حتى إذا زالت الشمس في المشرق لا يلزم أن تزول في المغرب، وكذا طلوع الفجر وغروب الشمس بل كلما تحركت الشمس درجة فتلك طلوع فجر لقوم وطلوع شمس لآخرين وغروب لبعض ونصف ليل لغيرهم كما في الزيلعي وقدر البعد الذي تختلف فيه المطالع مسيرة شهر فأكثر على ما في القهستاني عن الجواهر اعتبارا بقصة سليمان - عليه السلام -، فإنه قد انتقل كل غدو ورواح من إقليم إلى إقليم وبينهما شهر. اهـ.

ولا يخفى ما في هذا الاستدلال وفي شرح المنهاج للرملي وقد نبه التاج التبريزي على أن اختلاف المطالع لا يمكن في أقل من أربعة وعشرين فرسخا وأفتى به الوالد والأوجه أنها تحديدية كما أفتى به أيضا اهـ فليحفظ وإنما الخلاف في اعتبار اختلاف المطالع بمعنى أنه هل يجب على كل قوم اعتبار مطلعهم، ولا يلزم أحد العمل بمطلع غيره أم لا يعتبر اختلافها بل يجب العمل بالأسبق رؤية حتى لو رئي في المشرق ليلة الجمعة، وفي المغرب ليلة السبت وجب على أهل المغرب العمل بما رآه أهل المشرق، فقيل بالأول واعتمده الزيلعي وصاحب الفيض، وهو الصحيح عند الشافعية؛ لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم كما في أوقات الصلاة، وأيده في الدرر بما مر من عدم وجوب العشاء والوتر على فاقد وقتهما وظاهر الرواية الثاني وهو المعتمد عندنا وعند المالكية والحنابلة لتعلق الخطاب عملا بمطلق الرؤية في حديث «صوموا لرؤيته» بخلاف أوقات الصلوات، وتمام تقريره في رسالتنا المذكورة."

 (كتاب الصوم،2/ 393،ط:سعید)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"هذا ‌إذا ‌كانت ‌المسافة بين البلدين بعيدة، فإن كانت قريبة بحيث يقدر الأب أن يزور ولده ويعود إلى منزله قبل الليل فلها ذلك؛ لأنه لا يلحق الأب كبير ضرر بالنقل بمنزلة النقل إلى أطراف البلد."

(كتاب الإعتاق،4/ 45،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101075

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں