بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا روزے کی نیت دن بارہ یا تین بجے کر سکتے ہیں؟


سوال

مجھے شوگر ہے ، روزہ اس ڈر سے نہیں رکھتا کہ شوگر کم  نہ ہو جاۓ۔ صبح اگر اچھی خوراک کھالوں تو شام تک شوگر کو ہونے کا چانس کم ہوتا ہے۔ آج میرا روزے کا ارادہ تھا، مگر رات دو بجے لیٹا توتھکاوٹ کی وجہ سے نیند لگ گئی،  نہ روزہ رکھ سکا،  نہ سحری کر سکا۔ صبح کی نماز بھی قضا ہوگئی،  دن بارہ بجے جاگا ہوں ۔ اب فجر کی نماز تو ظہر کے ساتھ پڑھ لی ہے،  مگر روزہ اب جب کہ 3:30بج گئے ہیں، روزہ خالی پیٹ رکھا جاسکتا ہے؟ یعنی سحری کو  10 گھنٹے ہوگئے ہوں تو کیا  روزہ کی نیت کی جاسکتی ہے؟

دوسری بات صبح روزے کی نیت نہ ہو دن نکلنے کے بعد روزے کی نیت کی جاسکتی ہے،  جب کہ آپ نے کچھ کھایا پیا نہ ہو، یعنی میں بارہ بجے جاگا ہو ں یا  تین بجے،  تذبذب میں، تو  آج کے روزے کی نیت کی جاسکتی ہے؟

جواب

رمضان کا روزہ صحیح ہونے کے لیے نیت ضروری ہے، نیت چوں کہ دل کے ارادہ کا نام ہے، لہذا دل میں اتنی نیت کرلینا کہ آج میرا روزہ ہے، یا  رات میں یہ ارادہ کرلے کہ  کل میرا روزہ ہےکافی ہے۔

روزے کی  نیت غروب آفتاب کے بعد سے لے کل دوسرے دن نصف النہار شرعی ( یعنی سحری کا وقت جس وقت ختم ہوتاہے اس وقت سے لے کر سورج غروب ہونے کے وقت کو برابر دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو درمیانی وقت نصف النہار شرعی کہلاتاہے) سے پہلے تک کرسکتے ہیں، اس کے بعد کی گئی نیت شرعاً معتبر نہیں، اور نہ ہی ایسی نیت سے روزہ ہوتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ نے رات سونے سے پہلے روزے کی نیت کرلی تھی یعنی دل میں ارادہ تھا کہ صبح روزہ رکھوں گا تو ایسی صورت میں بارہ بجے یا تین بجے بیدار ہونے کی صورت میں بھی آپ کا روزہ درست ہوجائے گا، اگرچہ سحری کے لیے بیدار نہ ہوئے ہوں، کیوں کہ روزہ صحیح ہونے کے لیے سحری کرنا ضروری نہیں ہے، سنت ہے۔ البتہ رات کو آپ نے روزے کی نیت نہ کی ہو، سحری میں بیدار ہوکر کھانے پینے کے بعد نیت کا ارادہ ہو  (یعنی ذہن میں یہ ہو کہ سحری کے وقت بیدار ہو کر کھانے کے بعد طبیعت کو دیکھ کر روزے کی نیت کروں گا) تو ایسی صورت میں بارہ بجے یا تین بجے کی گئی نیت سے روزہ رکھنا درست نہ ہوگا، کیوں کہ یہ وقت نصف النہار شرعی کے بعد کا وقت ہے، جب کہ روزہ صحیح ہونے کے لیے نصف النہار شرعی سے پہلے پہلے نیت کرنا ضروری ہے۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(فَيَصِحُّ) أَدَاءُ (صَوْمِ رَمَضَانَ وَالنَّذْرِ الْمُعَيَّنِ وَالنَّفَلِ بِنِيَّةٍ مِنْ اللَّيْلِ) فَلَا تَصِحُّ قَبْلَ الْغُرُوبِ وَلَا عِنْدَهُ (إلَى الضَّحْوَةِ الْكُبْرَى لَا) بَعْدَهَا وَلَا (عِنْدَهَا) اعْتِبَارًا لِأَكْثَرِ الْيَوْمِ".

فتاوی شامی میں ہے:

"قَوْلُهُ: إلَى الضَّحْوَةِ الْكُبْرَى) الْمُرَادُ بِهَا نِصْفُ النَّهَارِ الشَّرْعِيِّ وَالنَّهَارُ الشَّرْعِيُّ مِنْ اسْتِطَارَة الضَّوْءِ فِي أُفُقِ الْمَشْرِقِ إلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ وَالْغَايَةُ غَيْرُ دَاخِلَةٍ فِي الْمُغَيَّا كَمَا أَشَارَ إلَيْهِ الْمُصَنِّفُ بِقَوْلِهِ لَا عِنْدَهَا. اهـ.

ح وَعَدَلَ عَنْ تَعْبِيرِ الْقُدُورِيِّ وَالْمَجْمَعِ وَغَيْرِهِمَا بِالزَّوَالِ لِضَعْفِهِ؛ لِأَنَّ الزَّوَالَ نِصْفُ النَّهَارِ مِنْ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَوَقْتِ الصَّوْمِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ كَمَا فِي الْبَحْرِ عَنْ الْمَبْسُوطِ قَالَ فِي الْهِدَايَةِ وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ قَبْلَ نِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ الْأَصَحُّ؛ لِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ وُجُودِ النِّيَّةِ فِي أَكْثَرِ النَّهَارِ وَنِصْفُهُ مِنْ وَقْتِ طُلُوعِ الْفَجْرِ إلَى وَقْتِ الضَّحْوَةِ الْكُبْرَى لَا وَقْتَ الزَّوَالِ فَتُشْتَرَطُ النِّيَّةُ قَبْلَهَا لِتَتَحَقَّقَ فِي الْأَكْثَرِ. اهـ.

وَفِي شَرْحِ الشَّيْخِ إسْمَاعِيلَ وَمِمَّنْ صَرَّحَ بِأَنَّهُ الْأَصَحُّ فِي الْعَتَّابِيَّةِ وَالْوِقَايَةِ وَعَزَاهُ فِي الْمُحِيطِ إلَى السَّرَخْسِيِّ وَهُوَ الصَّحِيحُ كَمَا فِي الْكَافِي وَالتَّبْيِينِ اهـ وَتَظْهَرُ ثَمَرَةُ الِاخْتِلَافِ فِيمَا إذَا نَوَى عِنْدَ قُرْبِ الزَّوَالِ كَمَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة عَنْ الْمُحِيطِ وَبِهِ ظَهَرَ أَنَّ قَوْلَ الْبَحْرِ وَالظَّاهِرُ أَنَّ الِاخْتِلَافَ فِي الْعِبَارَةِ لَا فِي الْحُكْمِ غَيْرُ ظَاهِرٍ.

[تَنْبِيهٌ] قَدْ عَلِمْت أَنَّ النَّهَارَ الشَّرْعِيَّ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ إلَى الْغُرُوبِ وَاعْلَمْ أَنَّ كُلَّ قُطْرٍ نِصْفُ نَهَارِهِ قَبْلَ زَوَالِهِ بِنِصْفِ حِصَّةِ فَجْرِهِ فَمَتَى كَانَ الْبَاقِي لِلزَّوَالِ أَكْثَرَ مِنْ هَذَا النِّصْفِ صَحَّ وَإِلَّا فَلَا تَصِحُّ النِّيَّةُ فِي مِصْرَ وَالشَّامَ قَبْلَ الزَّوَالِ بِخَمْسِ عَشْرَةَ دَرَجَةً لِوُجُودِ النِّيَّةِ فِي أَكْثَرِ النَّهَارِ؛ لِأَنَّ نِصْفَ حِصَّةِ الْفَجْرِ لَا تَزِيدُ عَلَى ثَلَاثَ عَشْرَةَ دَرَجَةً فِي مِصْرَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَنِصْفٍ فِي الشَّامِ فَإِذَا كَانَ الْبَاقِي إلَى الزَّوَالِ أَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ هَذِهِ الْحِصَّةِ وَلَوْ بِنِصْفِ دَرَجَةٍ صَحَّ الصَّوْمُ كَذَا حَرَّرَهُ شَيْخُ مَشَايِخِنَا السَّائِحَانِيُّ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى -. [تَتِمَّةٌ]

قَالَ فِي السِّرَاجِ: وَإِذَا نَوَى الصَّوْمَ مِنْ النَّهَارِ يَنْوِي أَنَّهُ صَائِمٌ مِنْ أَوَّلِهِ حَتَّى لَوْ نَوَى قَبْل الزَّوَالِ أَنَّهُ صَائِمٌ فِي حِينِ نَوَى لَا مِنْ أَوَّلِهِ لَا يَصِيرُ صَائِمًا". ( كتاب الصوم، ٢ / ٣٧٧، ط: دار الفكر)

ملحوظ رہے کہ شوگر کی وجہ سے اگر آپ اچھی طرح کھانے پینے کے بعد  روزے رکھنے پر قادر ہیں تو اہتمام کے ساتھ روزہ رکھنا ضروری ہوگا، روزہ ترک کرنے کی شرعاً اجازت نہ ہوگی، البتہ اگر قادر نہ ہوں تو ایسی صورت میں صحت مل جانے یا سردیوں میں قدرت ہوجانے کی صورت میں قضا لازم ہوگی۔ اگر مرض کی وجہ سے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا نہ کرسکیں یا بقیہ ساری زندگی  روزے پر قدرت حاصل نہ ہو تو  فی روزہ ایک فدیہ ( یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت، جو اس سال 2020ء - 1441ھ میں کراچی اور اس کے مضافات کے لیے 100 روپے ہے)  دینا لازم ہوگا۔  زندگی میں ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک تہائی ترکے میں سے فدیے کی ادائیگی کی وصیت لازم ہوگی۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201596

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے