بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا قرآن کے ذریعہ ایصالِ ثواب کرنا درست ہے/سورہ نجم آیت 39 کی تفسیر


سوال

کیا ایصالِ ثواب کے لیے قرآن پڑھنا اور مرحوم کے نام بخشنا درست ہے؟ سورہ نجم کی آیت نمبر 39 کا پھر کیا مفہوم ہے؟

جواب

1۔اہلِ سنت والجماعۃ کا عقیدہ ہے کہ جو لوگ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے  ہیں  ان کے لیے دعا بھی کی جا سکتی ہے  اور ان کو نفلی اعمال  کا ثواب ہدیہ بھی دیا جاسکتا ہے،خواہ  قرآن پڑھ کربخشا جائے یا خیرات اور حسنات بخشے جائیں ،چنانچہ قرآن پڑھ کر ثواب پہونچانے کے متعلق ابوداؤد شریف میں روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ" تم اپنے مردوں پر سورہٴ یاسین پڑھا کرو"، علامہ سیوطی شرح الصدور میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جو شخص قبروں  سے گزرتے هوئے گیارہ مرتبہ  سورہ خلاص پڑھ کر  مردوں کو بخشے گا اس کو مردوں کے عدد کے بقدر ثواب ملے گا"۔

2۔سورہ نجم کی آیت "وأن ليس للإنسان إلا ما سعى" کی تفسیركے متعلق مفسرين كے مختلف اقوال ہيں:

(1)بعض مفسرین کی رائے ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ  جس طرح کوئی دوسرے کا عذاب اپنے سر نہیں لے سکتا، اسی طرح کسی کو یہ بھی حق نہیں کہ کسی دوسرے کے عمل کے بدلے خود عمل کرلے اور وہ عمل سے سبکدوش ہوجائے، مثلاً ایک شخص دوسرے کی طرف سے نماز فرض ادا کردے یا دوسرے کی طرف سے فرض روزہ رکھ لے اور وہ دوسرا اپنے فرض نماز یا  روزے سے سبکدوش ہوجائے۔

(2)بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہاں "الانسان" سے مراد کافر ہے  آیت کے معنی یہ ہیں  کہ کافر کو کوئی بھلائی نہ ملے گی البتہ اس نے دنیا میں  جو بھلائی کی ہو گی تو دُنیا ہی میں  رزق کی وسعت یا تندرستی وغیرہ کے ذریعے اس کا بدلہ اسے دے دیا جائے گاتاکہ آخرت میں  اس کا کچھ حصہ باقی نہ رہے۔

(3)بعض مفسرین یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس آیت کا تعلق سابقہ امتوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تھا۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن معقل بن يسار، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: اقرءوا يس على ‌موتاكم."

(كتاب الجنائز،باب القراءة عند الميت،ج:3،ص:191،ط:المكتبة العصرية)

بذل المجھود شرح ابو داؤد میں  ہے:

"قال التوربشتي: يحتمل أن يكون المراد بالميت الذي حضره الموت، فكأنه صارفي حكم الأموات، أو أن يراد: من قضى نحبه، وهو في بيته أو دون مدفنه."

(باب القراءۃ عند المیت،ج:10،ص:386،ط:مرکز الشیخ ابی الحسن)

المنھل العذب المورود شرح ابو داؤد میں ہے:

"وأخذ بعض المتأخرين بظاهر الحديث فقال تقرأ بعد الموت وقبل الدفن. وقال بعضهم تقرأ بعد الموت قبل الدفن وبعده مستدلًا بحديث "من زار قبر والديه أو أحدهما يوم الجمعة فقرأ عنده يس غفر له."

(باب في القراءة عند الميت،ج:8،ص:258،ط:مطبعة الاستقامة)

شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور ميں ہے:

"وأخرج أبو محمد السمرقندي في فضائل {قل هو الله أحد} عن علي مرفوعا ‌من ‌مر على المقابر وقرأ {قل هو الله أحد} إحدى عشرة مرة ثم وهب أجره للأموات أعطي ‌من الأجر بعدد الأموات."

(في نبذ من أخبار من رأى الموتى في منامه وسألهم عن حالهم فأخبروه،ج:1،ص303،ط:دار المعرفة)

فتح القدیر میں ہے:

"الأصل في هذا الباب أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها عند أهل السنة والجماعة

(قوله أو غيرها) كتلاوة القرآن والأذكار."

(كتاب الحج،باب الحج عن الغير،ج:3،ص:142،ط:دار الفكر)

روح المعانی میں ہے:

"وقال الربيع: الإنسان هنا الكافر، وأما المؤمن فله ما سعى وما سعى له غيره."

(سورة النجم،ج:9،ص:127،ط:رشيدية)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقوله تعالى: وأن ليس للإنسان إلا ما سعى في معنى ذلك ويحتج به في امتناع جواز تصرف الإنسان على غيره في إبطال الحجر على الحر العاقل البالغ."

(سورة النجم،ج:5،ص:298،ط:دار احياء التراث العربي)

تفسير الرازی میں ہے:

"أن المراد من الإنسان الكافر دون المؤمن وهو ضعيف، وقيل بأن قوله: ليس للإنسان إلا ما سعى كان في شرع من تقدم، ثم إن الله تعالى نسخه في شرع محمد صلى الله عليه وسلم."

(سورۃ النجم،ج:29،ص:276،ط:دار احياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401100508

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں