بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا قضائے عمری میں وتر کی قضا بھی پڑھی جائے گی؟


سوال

میں نے پوچھنا  یہ ہے کہ قضائے عمری میں عشاء کے وتر کی قضا بھی پڑھی جائے گی یا صرف چار فرض پڑھے جائیں گے ؟

جواب

واضح رہے کہ وتر کی نماز واجب ہے، اور اُس کے چھوٹ جانے پر فرض نمازوں کی طرح اس کی بھی قضا کرنا ذمہ میں لازم ہوتا ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص قضائے عمری کرتا ہے، تو وہ عشاء کی قضا نماز میں چار فرضوں کے ساتھ تین وتر کی بھی قضا پڑھے گا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(هو فرض عملا وواجب اعتقادا وسنة ثبوتا) (و) لكنه (يقضى).

وقال عليه في الرد: (قوله ولكنه يقضي) لا وجه للاستدراك على قول الإمام، وإنما أتى به نظرا إلى قوله اتفاقا بعد حكايته الخلاف فيما قبله: أي إنه يقضي وجوبا اتفاقا، أما عنده فظاهر؛ وأما عندهما وهو ظاهر الرواية عنهما فلقوله - عليه الصلاة والسلام - «من نام عن وتر أو نسيه فليصله إذا ذكره» كما في البحر عن المحيط.

واستشكله في الفتح والنهر بأن وجوب القضاء فرع وجوب الأداء. وأجاب في البحر بما ذكر عن المحيط.

قلت: ولا يخفى ما فيه، فإن دلالة الحديث على وجوب القضاء مما يقوي الإشكال، إلا أن يجاب بأنهما لما ثبت عندهما دليل السنية قالا به، ولما ثبت دليل القضاء قالا به أيضا اتباعا للنص وإن خالف القياس."

(كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ٢/ ٣، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507101480

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں