بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا قضا نمازیں ایک ساتھ ادا کر سکتے ہیں؟


سوال

 ایسی نمازیں جو پہلے قضا ہو چکی ہوں تو ہر نماز کے ساتھ  ایک قضا دینی چاہیے یا ایک ہی وقت میں پانچوں نمازوں کی قضا دی جا سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قضا  نمازیں جلد از جلد ادا کرلینی چاہییں، تاخیر سے اجتناب کرنا چاہیے،  پس صورتِ مسئولہ میں اگر جتنا وقت میسر ہو  اس میں جتنی قضا فرض نمازیں ادا کرنے کی طاقت ہو، کرسکتے ہیں،  ہر فرض کے ساتھ  ایک فرض کی قضا کرنا ضروری نہیں، یہ مشورہ تو ان لوگوں کی سہولت کے لیے دیا جاتاہے جن کے ذمے بہت زیادہ نمازیں قضا ہوں، اور انہیں ان کی ادائیگی مشکل محسوس ہو۔

  البتہ اگر کسی کے ذمہ گزشتہ ایک دن کی پانچ یا اس سے کم نمازیں قضا ہوں، اور ان نمازوں کے علاوہ کوئی اور نماز قضا نہ ہو،  تو اس کے لیے وقتی فرض سے پہلے قضا نماز ادا کرنا ضروری ہوگا، بشرطیکہ قضا کی وجہ سے وقتی فرض قضا نہ ہو ۔

نیز  قضا صرف فرض نمازوں اور وتر کی ہوگی۔ یعنی فجر میں دو رکعت فرض، ظہر اور عصر میں چار چار رکعات فرض، مغرب میں تین رکعات فرض، اور عشاء میں چار رکعات فرض اور تین رکعات وتر۔ سنتوں کی قضا نہیں ہے، البتہ فجر  کی  سنتیں اگر رہ جائیں تو اسی دن  اشراق کا وقت ہوجانے کے بعد سے لے کر زوال سے پہلے پہلے  فجر کی سنت کی بھی قضا کرنا ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201217

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں