بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا اونٹ کی قربانی میں چودہ حصے دار ہوسکتے ہیں؟


سوال

اونٹ کی قربانی میں چودہ بندے حصہ ملا سکتے ہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں فقہائے احناف کے نزدیک اونٹ  میں بھی دیگر بڑے جانوروں کی طرح  زیادہ سے زیادہ سات افراد شریک ہوسکتے ہیں، اس سے زائد افراد قربانی کی غرض سے اونٹ میں شریک نہیں ہوسکتے، اگر اونٹ کی قربانی میں سات افراد سے زائد کسی فرد کو شریک کیا گیا تو شرکاء میں سے کسی بھی شریک کی قربانی صحیح نہیں ہوگی۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن ‌جابر ‌أن ‌النبي ‌صلى ‌الله ‌عليه ‌وسلم ‌قال: البقرة ‌عن ‌سبعة ‌والجزور ‌عن ‌سبعة."

(‌‌كتاب الصلاة‌‌، باب في الأضحية‌‌، الفصل الأول:ج: 1،ص: 458، ط: دارالفكر)

ترجمہ: "حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قربانی کے لئے) گائے سات افراد کی طرف سے کافی ہے اور اونٹ سات افراد کی طرف سے کافی ہے۔"

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنهم من فصل بين البعير والبقرة فقال البقرة لا تجوز عن أكثر من سبعة فأما البعير فإنه يجوز عن عشرة، ورووا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم  أنه قال: البدنة تجزي عن عشرة... (ولنا) أن الأخبار إذا اختلفت في الظاهر يجب الأخذ بالاحتياط وذلك فيما قلنا؛ لأن جوازه عن سبعة ثابت بالاتفاق وفي الزيادة اختلاف فكان الأخذ بالمتفق عليه أخذا بالمتيقن."

(كتاب التضحية، فصل في محل إقامة الواجب في الأضحية: 5/ 70- 71، ط: رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144412100081

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں