بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا مردہ بھی باتیں کرتے ہیں؟


سوال

فضائل صدقات میں کچھ واقعات ذکر کیے گیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مردے بھی زندوں سے باتیں کرتے ہیں،کیایہ بات واقعی درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جس طرح شریعت مطہرہ میں  مردہ کاسننا  ثابت ہے، اسی طرح مردہ کابات کرنا بھی روایات سے ثابت ہے،روایات میں مردہ کاسلام کاجواب دینا،مانوس ہونااور اپنے رشتہ دارکوپہچاننے کاکثرت سے ذکر ملتاہے،ان ہی روایات کاتجزیہ کرتے ہوئے  حضرت انور شاہ کشمیری ؒ نے فرمایا:"کلامِ موتی اور سماعِ موتی کامسئلہ ایک ہی ہے"،البتہ خر قِ عادت میں سے ہونے کی وجہ سے   اس کا اختیار کسی بھی مردے کو حاصل نہیں ،بلکہ اللہ تعالیٰ جس سے چاہیں بلواتے ہیں۔

مجمع الزوائد میں ہے:

"عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: "بينا أنا أسير بجنبات بدر إذ خرج رجل من حفرة في عنقه سلسلة فناداني: يا عبد الله اسقني. فلا أدري أعرف اسمي أو دعاني بدعاية العرب. وخرج رجل في ذلك الحفير في يده سوط فناداني: يا عبد الله لا تسقه فإنه كافر. ثم ضربه بالسوط حتى عاد إلى حفرته. فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم مسرعا فأخبرته فقال لي: " أو قد رأيته؟ ". قلت: نعم. قال: " ذاك عدو الله أبو جهل بن هشام، وذاك عذابه إلى يوم القيامة".

(باب في العذاب في القبر، ج:3، ص:57، ط:مكتبة القدسي)

ترجمہ:حضرت ابن ِ عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دریں اثناء کہ میں بدر کے قریب سے گزررہا تھا اتنے میں ایک گڑھے سے ایک شخص نکلاجس کے گلے میں زنجیر تھی،اس نے مجھے پکار کر کہا:"اے عبداللہ ! مجھے پانی پلاؤ"۔مجھے معلوم نہیں کہ آیا اسے میرا نام معلوم تھایاعرب کے دستور کے مطابق اس نے "عبداللہ "(اللہ کابندہ) کہہ کر پکارا، اس گڑھے سے ایک اور آدمی نکلا جس کے ہاتھ میں کوڑا تھا۔ اس نے مجھے پکار کر کہا کہ "اس کو پانی نہ پلانا، یہ کافر ہے"۔پس اس نے پہلے شخص کو کوڑا مار اور مار مار کر گڑھے کی طرف واپس لے گیا۔ میں جلدی سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سارا قصہ عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"کیا تونے واقعی اس کو دیکھاہے؟ عرض کیا ،جی ہاں!فرمایا"یہ اللہ کادشمن ابو جہل تھا۔ اور قیامت تک اس کی یہی سزا ہے"۔

فیض الباری میں ہے:

" حدثنا عبد الله بن يوسف حدثنا الليث حدثنا سعيد عن أبيه أنه سمع أبا سعيد الخدرى - رضى الله عنه - قال كان النبى صلى الله عليه وسلم يقول "إذا وضعت الجنازة فاحتملها الرجال على أعناقهم، فإن كانت صالحة قالت قدمونى. وإن كانت غير صالحة قالت لأهلها يا ويلها أين يذهبون بها يسمع صوتها كل شىء إلا الإنسان، ولو سمع الإنسان لصعق".

"واعلم أن مسألة كلام الميت وسماعه واحدة وأنكرها حنفية العصر. وفي رسالة فير مطبوعة. لعلي القاري: أن أحدا من أئمتنا لم يذهب إلى إنكارها، وإنما استنبطوها من مسألة في باب الاييمان، وهي: حلف رجل أن لا يكلم فلانا فكلمه بعدما دفن لا يحنث، قال القاري: ولا دليل فيها على ما قالوا، فإن مبنى الأيمان على العرف وهم لا يسمونه كلاما".

(كتاب الجنائز، باب قول الميت وهو على الجنازة: قدموني، ج:3، ص:43، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144509101264

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں