بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا مسجد کو صدقہ دے سکتے ہیں ؟


سوال

کیا مسجد کو صدقہ دے سکتے ہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زکاۃ اور صدقاتِ واجبہ  کی رقم مسجد میں دینا اور اسے مسجد  میں استعمال کرنا جائز  نہیں ہے، البتہ نفلی صدقات مسجد میں دینا اور ان کی رقم استعمال کرنا جائز ہے۔ لہذا مسجد میں صرف عطیہ اور صدقات نافلہ کی رقم دی جائے۔

         فتاوی عالمگیری میں  ہے:

'' لا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار، والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين."

  (  کتاب الزکاة، الباب السابع فی المصارف،1/ 188، ط؛ رشیدیه)

فتاویٰ شامی میں ہے :

’’(وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال.

(قوله: في المصارف) أي المذكورة في آية الصدقات إلا العامل الغني فيما يظهر و لاتصح إلى من بينهما أولاد أو زوجية ولا إلى غني أو هاشمي ونحوهم ممن مر في باب المصرف، وقدمنا بيان الأفضل في المتصدق عليه.‘‘

 (کتاب الزکاۃ،2/ 368،ط:سعید)

بدائع الصنائع ميں ہے :

"وأما صدقة التطوع فیجوز صرفها إلی الغنی لأنها تجري مجری الهبة".

( كتاب الزكاة،فصل الذي يرجع إلى المؤدى إليه،2/48، ط: رشيدية)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144507101600

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں