بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا ماہانہ آمدن پر زکات واجب ہوتی ہے؟


سوال

 ہماری ماہانہ آمدنی میں بھی زکاۃ فرض ہے یا صرف رمضان میں فرض ہے؟ تفصیل سے وضاحت فرما دیں!

جواب

صاحبِ نصاب شخص کے پاس نصاب کا سال (قمری حساب سے) مکمل ہونے کے دن جتنا سونا، چاندی، نقدی اور مال تجارت ( سامان ہو یا زمین، گھر، فلیٹ یا دوکان کی شکل میں)،  ملکیت میں موجود ہو، واجب الادا قرض نکالنے کے بعد اس  کل کی مالیت کا ڈھائی فیصد بطور زکاة ادا کرنا واجب ہوتا ہے، البتہ سال کے دوران جو کچھ نقدی خرچ کردی اس پر کوئی زکاۃ واجب نہیں ہوتی، لہذا صورتِ مسئولہ میں ماہانہ تنخواہ پر ہر مہینہ میں زکاۃ ادا کرنا واجب نہیں، البتہ سال مکمل ہونے پر  تنخواہ یا ماہانہ آمدن میں سے جتنی نقدی موجود ہو  اگر وہ نصابِ زکاۃ یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو یا سائل پہلے سے صاحب نصاب ہو تو اس صورت میں محفوظ نقدی کو کل مال میں شامل کرکے کل کا ڈھائی فیصد ادا کرنا واجب ہوگا۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ زکاۃ رمضان میں فرض نہیں ہوتی، بلکہ زکاۃ کی فرضیت کا تعلق ہر مکلف انسان کے صاحبِ نصاب ہونے کے دن سے ہے، جس دن وہ نصاب کا مالک بنے، قمری حساب سے ٹھیک ایک سال بعد اس پر زکاۃ کی ادائیگی فرض ہوگی، خواہ وہ رمضان کا مہینہ ہو یا کوئی اور۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200774

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں