بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 رجب 1444ھ 27 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

کیا مالی حالات کمزور ظاہر کرکے امداد حاصل کرنا جائز ہے؟


سوال

کورسیرا (coursera) ایک امریکی آن لائن  تعلیمی پلاٹ فارم ہے، جس میں طلبہ کو کورس کرائے جاتے ہیں، بہت سے کورس مفت ہوتے ہیں اور وہ اختتام پر سند بھی جاری کرتے ہیں، بعض کورس کے لیے کچھ ڈالر  دے کر سند حاصل کی جاتی ہے، بعض کورس کے لیے ہمیں فائنینشل ایڈ  یعنی مالی مدد کے لیے درخواست جمع کروانی پڑتی ہے، مالی امداد کے لیے درخواست جمع کراوانے کے لیے یہ ذکر کرنا پڑتا ہے کہ ہمارے مالی حالات کمزور ہیں اور ہم  تعلیمی اخراجات   اور کورس کی فیس نہیں برداشت کرسکتے، اب سوال یہ ہے کہ اگر ہماری حیثیت اتنی کمزور نہ ہو اور ہم کورس کی فیس اور تعلیمی اخراجات بھی  ادا کرسکتے ہوں، لیکن ہم پھر بھی  مالی حالات کمزور ظاہر کرکے مالی امداد کی درخواست جمع کروائیں، تو کیا  ایسا کرنا  جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ  آن لائن پلاٹ فارم  کورسیرا،  مالی  امداد صرف ان لوگوں کی کرتاہو جوکہ واقعۃً مالی حالات کے اعتبار سے کمزور ہوں اور تعلیمی اخراجات برداشت نہ کرسکتے ہوں، تو کسی صاحبِ حیثیت  کا درخواست میں اپنی مالی حالت کو کمزور ظاہر کرکے مالی امداد حاصل کرنا ناجائز وحرام ہے اور دھوکے بازی کے زمرے میں آتا ہے، نیز اس میں یہ خرابی بھی ہے کہ یہ مالی امداد  اس کےاصل مستحق  کو   ملنے سے رہ جاتی ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال: أصابته السماء يا رسول الله قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس؟ ‌من ‌غش فليس مني»."

(كتاب البيوع،باب المنهي عنها من البيوع،ج:2،ص:861،ط:المكتب الاسلامي)

ترجمه:حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں (ایک مرتبہ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غلے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے اور اپنا ہاتھ اس ڈھیر میں داخل کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو کچھ تری محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اے غلے کے مالک : یہ تری کیسی ہے؟اس نے عرض کیا "یا رسول اللہ: اس  حد تک بارش کا پانی پہنچ گیا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" تو پھر تم نے تر غلہ کو اوپر کی جانب کیوں نہیں رکھاتا کہ لوگ اس کو دیکھ لیتے، جو شخص فریب دے وہ مجھ سے نہیں ہے۔

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144401101824

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں