بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا کوئی مرض متعدی ہو سکتا ہے؟


سوال

 آج کل سننے میں آرہا ہے کہ یہ مرض جو چل رہا ہے کرونا وائرس کے نام سے یہ ایک سے دوسرے کو لگتا ہے، آیا یہ بات صحیح ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرما کر راہ نمائی فرمائیں!

جواب

کسی بیماری کے متعدی  (ایک سے دوسرے میں منتقل) ہونے کا عقیدہ رکھنے کی شرعی حیثیت: 

واضح رہے کہ احکم الحاکمین ذات نے اپنی حکمتِ بالغہ کے تحت کائناتِ عالم میں بہت سی چیزوں کو  اسباب کے ساتھ جوڑا ہے،  تاہم اس کے مؤثر ہونے کو   اللہ رب العزت نے  اپنے حکم کا پابند  بنایا ہے؛  یہی وجہ ہے کہ  نبی کریمﷺ نے  امت کو اس حقیقت سے روشناس کرانے کے لیے دو مختلف موقعوں پر ایسا عمل کیا جس سے یہ دونوں باتیں واضح ہوجاتی ہیں۔

ایک مرتبہ نبی کریمﷺکے پاس ایک مجذوم (جذام کی بیماری والا شخص، جس بیماری کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ پھیلتی ہے) آیا تو  آپﷺ نے اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناول فرمایا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیمار آدمی سے یقینی طور پر بیماری لگ جانے کا اعتقاد درست نہیں ہے۔

دوسرے موقع پر ایک مجذوم آپﷺ سے بیعت ہونے کے لیے آیا تو نبی کریمﷺ  نے اسے اپنے پاس آنے کی اجازت مرحمت نہیں فرمائی،  اس سے ہاتھ ملائے بغیر ہی  اسے دور سے ہی پیغام بھجوادیا کہ ہم نے تمہیں بیعت کرلیا ہے،  جس سے معلوم ہوتا ہے کہ احتیاط کے درجہ میں بیماری کے ظاہری اسباب سے بچناجائز ہے۔  

 مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ ظاہری سبب کے طور پر پھیلنے والی بیماری کی جگہ یا شخص سے بچنا جائز ہے، تاہم یہ عقیدہ نہ ہو کہ ایسی جگہ میں جانے سے یا رہنے سے یا ایسے شخص کے قرب سے بیماری کا لگنا یقینی ہے۔

چنانچہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں : 

"اہلِ مسلکِ ثانی نے یہ کہا کہ عدوی کی نفی سے مطلقاً نفی کرنا مقصود نہیں؛ کیوں کہ اس  کا مشاہدہ ہے ۔۔۔ مگر اہلِ مسلکِ ثانی نے اس کو خلافِ ظاہر سمجھ کر یہ کہا کہ مطلق عدوی کی نفی اس سے مقصود نہیں، بلکہ اس عدوی کی نفی مقصود ہے جس کے قائل اہلِ جاہلیت تھے اور جس کےمعتقدینِ سائنس اب بھی قائل ہیں، یعنی بعض امراض میں خاصیت طبعی لازم ہے  کہ ضرور متعدی ہوتے ہیں،  تخلف کبھی ہوتا ہی نہیں، سو اس کی نفی فرمائی گئی ہے  ۔۔۔الخ" (امداد الفتاوی، ج۴ / ص ۲۸۷)  

   نیز  اگر کسی علاقے میں کوئی وبا (مثلاً طاعون وغیرہ) پھیل جائے تو اس حوالے سے  کتبِ حدیث میں روایات منقول  ہیں کہ جس جگہ طاعون کا مرض پھیل جائے وہاں جانے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا، اور جہاں آدمی موجود ہو، اور وہاں طاعون کا مرض پھیل جائے تو  ڈر کر وہاں سے بھاگنے سے منع فرمایا۔ 

یہ روایات صحیح اسناد سے ثابت ہیں، بخاری شریف میں ہے :

"حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَعَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الطَّاعُونُ رِجْسٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ. قَالَ أَبُو النَّضْرِ: لَا يُخْرِجْكُمْ إِلَّا فِرَارًا مِنْهُ". (صحیح البخاري، باب من انتظر حتی تدفن :۴/۱۷۵، ط: دارطوق النجاة)

  اسی طرح کی روایت صحیح مسلم ، سنن ابو داؤد ، سنن ترمذی وغیرہ میں موجود ہے ۔ 

  مذکورہ احادیث کی تشریح  محدثین نے مختلف وجوہات بیان فرمائی ہیں:

1- جہاں طاعون پھیلا ہو ، وہاں جانے کی صورت میں وبائی مرض کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی قدرت  کے سامنے گویا جرأت کا اظہار ہے، اور جہاں موجود ہو  وہاں سے بھاگنا  گویا تقدیر سے بھاگنا ہے جس کاکوئی فائدہ نہیں ہے، اس لیے یہ دونوں کام درست نہیں۔

2- سبب کے درجے میں اگر وبا زدہ علاقے میں جاکر بیماری لگ گئی یا موت آگئی تو لوگ یہ خیال کریں گے کہ یہ وبا کی وجہ سے مرا ہے، حال آں کہ اس کی موت کا وقت متعین تھا، اور وبا میں مبتلا شخص اس علاقے سے نکلا اور اس کی بیماری سبب کے درجے میں دوسرے علاقے کے کسی شخص کو لگ گئی، جس کی وجہ سے  جاہلیتِ اولیٰ کا یہ عقیدہ دوبارہ ذہنوں میں جگہ پکڑے گا کہ بیماریاں ذاتی طور پر متعدی ہوتی ہیں، حال آں کہ یہ سب اللہ کے حکم سے ہوتاہے، ورنہ پہلے شخص  کو بیماری کس سے متعدی ہوکر لگی؟!

    بہرحال اس ممانعت کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی اس وبا سے بھاگنا چاہتا ہو تو یہ منع ہے، لیکن اگر کسی ضرورت کی وجہ سے وبا زدہ علاقے کے رہائشی کو باہر جانا ہو اور اس کا یقین پختہ ہو کہ موت زندگی اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے، وہ کسی جگہ بھی بیماری اور وبا میں مبتلا کرسکتا ہے تو  بوجہ ضرورت ایسے علاقے سے جاسکتے ہیں، اسی طرح وبا زدہ علاقے میں اگر کسی کو کام ہو (مثلاً ڈاکٹرز اور میڈیکل ٹیمیں یا دیگر رضاکار خدمت کے لیے جائیں) اور اللہ کی ذات پر پختہ یقین ہو کہ بیماری اور موت  دینا اللہ ہی کے دستِ قدرت میں ہے، تو اختیاری تدابیر استعمال کرتے ہوئے وبا زدہ علاقے میں جاسکتے ہیں۔

 "وفي رواية أخرى: فلاتدخلوا عليه، أي يحرم عليكم ذلك؛ لأن الإقدام عليه جراءة على خطر وإيقاع للنفس في التهلكة والشرع ناه عن ذلك، قال تعالى: {ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة}. (وإذا وقع ) أي الطاعون ( وأنتم ) أي والحال أنتم ( بها ) بذلك الأرض ( فرارًا ) أي بقصد الفرار ( منه )، فإن ذلك حرام؛ لأنه فرار من القدر وهو لاينفع، والثبات تسليم لما لم يسبق منه اختيار فيه فإن لم يقصد فرارًا بل خرج لنحو حاجة لم يحرم قاله المناوي في التيسير". (عون المعبود ، باب الخروج من الطاعون : ۸ / ۲۵۵)

محدثین عظام نے  طاعون سے وبا مراد لی ہے:

"الطاعون بوزن فاعول من الطعن عدلوا به عن أصله ووضعوه دالا على الموت العام كالوباء ويقال طعن فهو مطعون وطعين إذا أصابه الطاعون وإذا أصابه الطعن بالرمح فهو مطعون هذا كلام الجوهري.   وقال الخليل: الطاعون الوباء". (عون المعبود ، باب الخروج من الطاعون :  ٨ / ٢٥٥)

 لہذا  اگر کہیں وبا پھیل جائے تو  اس سے بھاگنے کے بجائے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ 

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح   میں ہے:

" فر من المجذوم فرارك من الأسد " فإنه محمول على بيان الجواز أو لئلا يقع شيء منه بخلق الله فينسب إلى الإعداء بالطبع ليقع في محذور اعتقاد التأثير لغير الله، وقد عمل النبي صلى الله عليه وسلم بالأمرين ليشير إلى الجوابين عن قضية الحديث فإنه جاءه مجذوم فأكل معه قائلا: بسم الله ثقة بالله وتوكلا عليه، وجاءه مجذوم آخر ليبايعه فلم يمد إليه يده وقال: قدبايعت، فأولاً نظر إلى المسبب وثانيًا نظر إلى السبب في مقام الفرق وبين أن كلاًّ من المقامين حق، نعم الأفضل لمن غلب عليه التوكل أو وصل إلى مقام الجمع هو الأول والثاني لغيره". ( ٤ / ١٧١١) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107201205

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے