بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 شعبان 1445ھ 02 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا کسی دوسرے شخص کے بدلے بینک میں قسط ادا کرنا جائز ہے؟


سوال

ایک بندے نے UBL کے ذریعے گاڑی لی ہے، ابھی اس کی اقساط باقی ہیں ،مگر اب وہ کسی مجبوری کی وجہ سے قسط ادا نہیں کر سکتا،اب وہ گاڑی میں اس بندے سےلے کر اس کی جگہ بینک میں قسط ادا کرتا رہوں، تو کیا میری طرف سے سودی لین دین میں شرکت تصور ہو گی؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل مذکورہ شخص کو اس کی ادا کردہ رقم دے کر خود بینک کے ساتھ براہ راست معاملہ کرلے یعنی اس کی جگہ ادائیگی بینک کو کرے گا تو ایسا کرنا ناجائز ہوگا،البتہ اگر سائل اس شخص سے یہ گاڑی خریدے اور اس میں کوئی شرطِ فاسد نہ ہو اور بینک کے معاہدے سے سائل کا کوئی تعلق نہ ہو تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہوگا،یعنی مذکورہ شخص پوری رقم بینک کو ادا کردے، اور سائل کو کل قیمت مقرر کرکے فروخت کردے اور سائل کا تعلق بینک سے نہ رہے تو یہ جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قوله: (لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح:  وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز اه، ومثله في المعراج وظاهره: أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية : ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اه،  ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان   قوله ( وفيه الخ ) أي: في البحر حيث قال: وأفاد في البزازية: أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عند مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي ".

(كتاب الحدود،باب التعزير، مطلب في التعزير بأخذ المال،ج:4،ص:61،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405100845

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں