بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا جنتی جنت میں اکتاہٹ کا شکار ہوں گے؟


سوال

میں ایک جنرل ہول سیل کی دوکان میں کام کرتاہوں،  اور جب فارغ ہوتا ہوں، تو میں اکثر اوقات تنگ ہوجاتا ہوں، یعنی کوئی کام وغیرہ نہیں ہوتا تو میرے  ذہن میں یہ خیال آتا کہ جب دنیا میں بندہ تھوڑا فارغ ہوتاہے، تو بور ہوجاتاہے،  جب جنت میں جائیں گے تو وہاں پر کام وغیرہ تو نہیں ہوگا تو وہاں پر ٹائم کیسے پاس ہوگا ؟ تو اس برے خیال سے میں بہت پریشان ہوجاتاتھا پر الله کا فضل ہوا یہ برا وسوسہ اور خیال ختم ہوا لیکن اس کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ان خیالات کی وجہ سے  ایمان سے خارج تو نہیں ہوگیا ہوں؟ تو میں نے ایک مفتی صاحب سے ان کے بارے ميں پوچھا تو مفتی صاحب نے کہا کہ ان خیالات سے آپ کے ایمان اور نکاح کو کچھ بھی نہیں ہوگا،   لیکن ان خیالات کو خود  ذہن میں نہیں  لاؤ ۔

اب میں پریشان ہوں اور اس شک میں ہوں کہ اس کو تو میں خود نہیں  لاتا ۔

میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں سائل وسوسہ کا شکار نہ ہو، جب جب ایسا خیال آئے تو تین مرتبہ " آمَنْتُ بِاللهِ وَ رُسُلِهِ " پڑھ لیا کرے۔

رہی بات جنت میں تنگ آنے یا اکتاہٹ کا شکار ہونے کی، تو جنتی ایسی کیفیات سے محفوظ ہوں گے، کیوں اللہ رب العزت نے  جنت میں ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں، جس کا تصور کرنا بھی دنیا میں ممکن نہیں، یہی وجہ ہے  کہ  قرآن مجید میں  ارشاد ہے کہ : " جو لوگ ایمان لائے، اور نیک اعمال کیے ان کی مہمان نوازی کے لیے فردوس کے باغات ہوں گے، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور وہاں سے کہیں اور جانا نہیں چاہیں گے۔

"إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا(١٠٧) خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا (١٠٨)"

(سورة الكهف)

صحيح مسلم میں ہے:

١٣ - (٢٨٣٣) حدثنا أبو عثمان، سعيد بن عبد الجبار البصري. حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت البناني، عن أنس بن مالك؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "إن في الجنة لسوقا. يأتونها كل جمعة. فتهب ريح الشمال فتحثو في وجوههم وثيابهم. فيزدادون حسنا وجمالا. فيرجعون إلى أهليهم وقد ازدادوا حسنا وجمالا. فيقول لهم أهلوهم: والله! لقد ازددتم بعدنا حسنا وجمالا. فيقولون: وأنتم، والله! لقد ازددتم بعدنا حسنا وجمالا".

(كتاب الجنة، وصفة نعيمها وأهلها، باب في سوق الجنة، وما ينالون فيها من النعيم والجمال، ٤ / ٢١٧٨، ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جنت میں ایک بازار ہے جس میں وہ (اہل جنت) ہر جمعہ کو آیا کریں گے تو (اس روز) شمال کی ایسی ہوا چلے گی جو ان سے چہروں پر اور ان کے کپڑوں پر پھیل جائےگی، وہ حسن اورزینت میں اوربڑھ جائیں گے، وہ اپنے گھروالوں کے پاس واپس آئیں گے تو وہ (بھی) حسن وجمال میں اور بڑھ گئے ہوں گے، ان کےگھر والے ان سے کہیں گے: اللہ کی قسم! ہمارے (ہاں سے جانے کے) بعد تمہارا حسن وجمال اور بڑھ گیا ہے۔وہ کہیں گے اور تم بھی، اللہ کی قسم! ہمارے پیچھے تم لوگ بھی اور زیادہ خوبصورت حسین ہوگئے ہو۔"

صحیح البخاري میں ہے:

٣٢٤٤ - حدثنا الحميدي حدثنا سفيان حدثنا أبو الزناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: قال الله: «أعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا خطر على قلب بشر فاقرؤوا إن شئتم ﴿فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين﴾.»

(كتاب بدء الخلق، باب ما جاء في صفة الجنة وأنها مخلوقة، ٤ / ١١٨، ط: السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية، ببولاق مصر)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں، جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی خیال گزرا ہے۔ اگر جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين» "پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کیا چیزیں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔"

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144509101601

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں