بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا حضرت عیسی علیہ السلام اور دجال کے درمیان جنگ تلواروں اور نیزوں کے ساتھ ہوگی؟


سوال

 کیا  قربِ قیامت  میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کے درمیان تلواروں اور نیزوں سے جنگیں لڑی جائیں گی؟

جواب

 حضرت عیسی علیہ السلام  اور دجال کے درمیان جو جنگ ہوگی،اس کے بارے میں احادیث سے  اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ :  حضرت عیسی علیہ السلام یہودیوں کے خلاف جہاد میں  مسلمانوں کے  امیر اور پیشوا ہوں گے،حضرت عیسی  علیہ السلام کے پاس دو تلواریں ہوں گی،دجال آپ کو دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوگا،آپ علیہ السلام دجال کا تعاقب کریں گے اور اسے  (باب لُد پر)قتل کریں گے،دجال كا خون آپ كے نيزے پر بہہ رہا ہوگا۔

(ماخو ذ از: علامات قیامت اور نزول مسیح علیہ السلام، مصنفہ: مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب ؒ،ص:160، ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)

ان احادیث میں حضرت عیسی علیہ السلام کے دجال کو تلوار اور نیزہ کے ساتھ قتل کرنے کا ذکر ہے،اس حدیث کے الفاظ کو حقیقت پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے،اور یہ بھی   ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اور نیزہ کا ذکر تمثیلاً فرمایا ہو،مراد اس سے عموماً آلہ قتل ہو، چونکہ  اُس  زمانہ میں  قتال تیر و تلوار کے ذریعے ہی ہوتا تھا،اورسامعین کے سامنے جنگ کا یہی نقشہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے لوگوں کے اذہان کی رعایت کرتے ہوئے تیر وتلوار کاذکر فرمایا ہو ،غرض یہ کہ ان احادیث سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی کہ دجال کے ساتھ ہونے والی جنگ میں جدید اسلحہ کلاشنکوف اور توپ وغیرہ استعمال نہیں ہوگا،بلکہ اس میں  دونوں باتوں کا احتمال ہے؛ کیونکہ  اللہ تعالی نے کفار کے مقابلے میں ہر طرح کی قوت و طاقت استعمال کرنے اور  بھر پور تیاری کا حکم دیاہے:

"[ وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ ] ."سورة الأنفال،الآية:60

حضرت مولانامفتي شفيع صاحب رحمه الله اس آيت كي تفسير ميں فرماتے هيں:

" اس سامان کی کچھ تفصیل اس طرح فرمائی مِّنْ قُوَّةٍ یعنی مقابلہ کی قوت جمع کرو اس میں تمام جنگی سامان اسلحہ، سواری وغیرہ بھی داخل ہیں اور اپنے بدن کی ورزش، فنون جنگ کا سیکھنا بھی، قرآن کریم نے اس جگہ اس زمانہ کے مروجہ ہتھیاروں کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ قوت کا عام لفظ اختیار فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ یہ قوت ہر زمانہ اور ہر ملک و مقام کے اعتبار سے مختلف ہوسکتی ہے اس زمانہ کے اسلحہ تیر، تلوار، نیزے تھے اس کے بعد بندوق توپ کا زمانہ آیا۔ پھر اب بموں اور راکٹوں کا وقت آگیا۔ لفظ قوت ان سب کو شامل ہے اس لئے آج کے مسلمانوں کو بقدر استطاعت ایٹمی قوت، ٹینک اور لڑاکا طیا رے، آب دوز کشتیاں جمع کرنا چاہئے کیونکہ یہ سب اسی قوت کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اور اس کے لئے جس علم و فن کو سیکھنے کی ضرورت پڑے وہ سب اگر اس نیت سے ہو کہ اس کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں سے دفاع کا اور کفار کے مقابلہ کا کام لیا جائے گا تو وہ بھی جہاد کے حکم میں ہے۔"

(سورةالأنفال، آيت نمبر:60،ج:3،ط:مكتبه معارف القرآن كراچي)

سنن أبي داود ميں ہے: 

" عن النواس بن سمعان الكلابي، قال: ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال، فقال: إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم، وإن يخرج ولست فيكم، فامرؤ حجيج نفسه، والله خليفتي على كل مسلم، فمن أدركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف، فإنها جواركم من فتنته....ثم ينزل عيسى ابن مريم عند المنارة البيضاء شرقي دمشق، فيدركه عند باب لد، فيقتله".

(كتاب الملاحم، باب خروج الدجال،ج:4،ص: 117،ط: الرسالة)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:  لا تقوم الساعة......إذ أقيمت الصلاة فينزل عيسى ابن مريم صلى الله عليه وسلم، فأمهم فإذا رآه عدو الله ذاب كما يذوب الملح في الماء، فلو تركه لانذاب حتى يهلك، ولكن يقتله الله بيده، فيريهم دمه في حربته ".

(کتاب الفتن،ج: 8، ص : 176۔، ط: الترکیة)

مسند أحمد میں ہے:

"عن ابن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " لقيت ليلة أسري بي: إبراهيم، وموسى، وعيسى "، قال: " فتذاكروا أمر الساعة، فردوا أمرهم إلى إبراهيم، فقال: لا علم لي بها، فردوا الأمر إلى موسى، فقال: لا علم لي بها، فردوا الأمر إلى عيسى، فقال: أما وجبتها، فلا يعلمها أحد إلا الله، ذلك وفيما عهد إلي ربي عز وجل أن الدجال خارج، قال: ومعي قضيبين."

(مسند ابن مسعود،ج:6،ص: 19،ط:الرسالة)

تفسير القرطبي میں ہے:

"قوله تعالى:" وأعدوا لهم" أمر الله سبحانه المؤمنين بإعداد القوة للأعداء بعد أن أكد تقدمة التقوى. فإن الله سبحانه لو شاء لهزمهم بالكلام والتفل في وجوههم وبحفنة من تراب، كما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم. ولكنه أراد أن يبتلي بعض الناس ببعض بعلمه السابق وقضائه النافذ. وكلما تعده لصديقك من خير أو لعدوك من شر فهو داخل في عدتك. قال ابن عباس: القوة هاهنا السلاح والقسي. وفي صحيح مسلم عن عقبة بن عامر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر يقول: (وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة ألا إن القوة الرمي ألا إن القوة الرمي ألا إن القوة الرمي). وهذا نص رواه عن عقبة أبو علي ثمامة بن شفي الهمداني، وليس له في الصحيح غيره. وحديث آخر في الرمي عن عقبة أيضا قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (ستفتح عليكم أرضون ويكفيكم الله فلا يعجز أحدكم أن يلهو بأسهمه).قال صلى الله عليه وسلم: يا بني إسماعيل ارموا فإن أباكم كان راميا (. وتعلم الفروسية واستعمال الأسلحة فرض كفاية".

(سورة الأنفال،الآية: 60، ج:8 ص:35، ط:دار الكتب المصرية)

ترجمان السنہ میں ہے:

"رسول آئندہ واقعات کی صرف بقدر ضرورت اطلاع دے دیتا ہے پھر جب ان کے ظہور کا وقت آتا ہے تو وہ خود اپنی تفصیل کے ساتھ آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں اور اس وقت یہ ایک کرشمہ معلوم ہوتا ہے کہ اتنے بڑے واقعات کے لیے جتنی اطلاع حدیثوں میں آچکی تھی وہ بہت کافی تھی اور قبل از وقت اس سے زیادہ تفصیلات دماغوں کے لیے بالکل غیر ضروری بلکہ شاید اور زیادہ الجھاؤ کا موجب تھیں ، علاوہ ازیں جس کو ازل سے ابد تک کا علم ہے وہ یہ خوب جانتا تھا کہ امت میں دین روایت اور اسانید کے ذریعہ پھیلے گا، اور اس تقدیر پر راویوں کے اختلافات سے روایتوں کا اختلاف بھی لازم ہوگا،ا نہیں اگر غیر ضروری تفصیات کو بیان کر دیا جاتا تو یقینا ان میں بھی اختلاف پیدا ہونے کا امکان تھا۔ اور ہو سکتا تھا کہ امت اس اجمالی خبر سے جتنا فائد ہ اٹھا سکتی تھی تفصیلات بیان کرنے سے وہ بھی فوت ہو جاتا ۔ لہذا امام مہدی کی حدیثوں کے سلسلہ میں نہ تو ہر گوشہ کی پوری تاریخ معلوم کرنے کی سعی کرنی صحیح ہے اور نہ صحت کے ساتھ منقول شدہ منتشر ٹکڑوں میں جزم کے ساتھ ترتیب دینی صحیح ہے اور نہ اس وجہ سے اصل پیشگوئی میں تر دد پیدا کر نا علم کی بات ہے۔ یہاں جملہ پیش گوئیوں میں صحیح راہ صرف ایک  ہے اور وہ یہ کہ جتنی بات حدیثوں میں صحت کے ساتھ آچکی ہے اس کو اسی حد تک تسلیم کر لیا جائے اور زیادہ تفصیلات کے در پے نہ ہوا جائے اور اگر مختلف حدیثوں میں کوئی ترتیب اپنے ذہن سے قائم کر لی گئی ہے تو اس کو حدیثی بیان کی حیثیت ہرگز نہ دی جائے۔"

(علی ہامش الامام المھدی،ج:4،ص:363،ط:البشری)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144502102396

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں