بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کعبہ میں پیدا ہوئے؟


سوال

کیا حضرت علی کعبہ میں پیدا ہوئے؟

جواب

حضرت علی کرم اللہ وجہہ  کی  پیدائش مکہ مکرمہ  میں ہوئی ،  جائے پیدائش  کے حوالہ سے امام حاکم رحمہ اللہ نے  مستدرک میں نقل کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی پیدائش بیت اللہ کے اندر ہوئی تھی، تاہم یہ اہل السنہ اور اہل تشیع دونوں کے نزدیک ضعیف  ہے۔

"المستدرك علي الصحيحين للحاكم    "میں ہے:

"أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، ثنا إبراهيم بن إسحاق الحربي، ثنا مصعب بن عبد الله، فذكر نسب حكيم بن حزام وزاد فيه، «وأمه فاختة بنت زهير بن أسد بن عبد العزى، وكانت ولدت حكيما في الكعبة وهي حامل، فضربها المخاض، وهي في جوف الكعبة، فولدت فيها فحملت في نطع، وغسل ما كان تحتها من الثياب عند حوض زمزم، ولم يولد قبله، ولا بعده في الكعبة أحد» قال الحاكم: «وهم مصعب في الحرف الأخير، فقد تواترت الأخبار أن فاطمة بنت أسد ولدت أمير المؤمنين علي بن أبي طالب كرم الله وجهه في جوف الكعبة»".

(ذكر مناقب حكيم بن حزام القرشي رضي الله عنه، ج:3، ص:550، ط:دارالکتب العلمیة)

"تدريب الراوي في شرح تقريب النووي" میں ہے:

"قال شيخ الإسلام: ولا يعرف ذلك لغيره، وما وقع في مستدرك الحاكم من أن عليا ولد فيها ضعيف".

(النوع الستون:التواریخ والوفیات، الثالث في وفيات أصحاب المذاهب المتبوعة، ج:2، ص:880، ط:دارالکتب العلمیة)

"تھذیب الاسماء واللغات للنووی" میں ہے:

"قالوا: ولد حکیم (بن حزام) في جوف الکعبة، ولا یعرف أحد ولد فیھا غیرہ، وأما ما روي أن علي ابن أبي طالب رضي اللہ عنہ ولد فیھا؛ فضعیف عند العلماء․"

(حرف الحاء، حکیم بن حزام، ج:1، ص:166، ط: دارالکتب العلمیة)

"السیرة الحلبیة"   میں ہے:

"و قيل: الذي ولد في الكعبة حكيم بن حزام. قال بعضهم: لا مانع من ولادة كليهما في الكعبة، لكن في النور: حكيم بن حزام ولد في جوف الكعبة و لايعرف ذلك لغيره. و أما ما روي أن عليًّا ولد فيها، ‌فضعيف ‌عند ‌العلماء."

(باب: تزوجه صلى الله عليه وسلم خديجة بنت خويلد رضي الله عنها، ج:1، ص:202، ط: دار الكتب العلمية)

اہل تشیع  کی معتبر  کتاب  "شرح نهج البلاغة لابن عبد الحمید بن هبة اللہ "میں ہے: 

"واختلف في مولد علي (رضي اللہ عنه) أین کان؟ فكثیر من الشیعة یزعمون أنه ولد في الکعبة، والمحدثون لا یعترفون بذٰلك، ویزعمون أن المولود في الکعبة حکیم بن حزام بن خویلد بن أسد بن عبد العزي بن قصي"․

(القول في نسب أمیر الموٴمنین علي بن أبي طالب وذکر لمع بسیرة من فضائله، ج:1، ص:14، ط:دارالجیل)

"تاریخ الخمیس في أحوال أنفس النفیس" میں ہے:

 "ویقال: ولادته في داخل الکعبة، ولم یثبت"․

(ذکر علي بن أبي طالب، ج:2، ص:275،ط:دار صادر)

حضرت شاہ عبد العزیز محدثِ دہلوی لکھتے ہیں:

"فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ عنہا کے متعلق جو یہ کہا گیا ہے کہ ان کو وحی ہوئی کہ خانہ کعبہ میں جاکر وضعِ حمل کریں، در حقیقت ایک بے لطف جھوٹ ہے، کیوں کہ اسلامی یا غیر اسلامی کسی بھی فرقہ کے نزدیک بھی وہ نبی نہیں تھیں ۔۔۔ الخ"

(تحفۂ اثنا عشریہ اردو، ص: 165 - 166،  ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144507102057

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں