بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا ہر رکعت میں بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے؟


سوال

کیا ہر رکعت میں بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ امام اور منفرد  ’’تنہا ‘‘  نماز  پڑھنے والے کے لیے  نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے آہستہ آواز سے  ’’بسم اللہ ‘‘ پڑھنا سنت ہے، اور سورہ فاتحہ کے بعد  دوسری سورت شروع کرنے سے پہلے ’’بسم اللہ‘‘ پڑھنا مستحب ہے، لیکن نماز کی کسی بھی رکعت میں سورۂ فاتحہ سے پہلے یا سورۂ فاتحہ کےبعد  سورت ملانے سے پہلےبسم اللہ پڑھنا ضروری (بمعنی واجب) نہیں ہے۔

مبسوطِ سرخسی میں ہے:

"وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمة الله عليهما - أن المصلي يسمي في أول صلاته، ثم لا يعيد؛ لأنها لافتتاح القراءة كالتعوذ. (وروى) المعلى عن أبي يوسف عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه يؤتى بها في أول كل ركعة، وهو قول أبي يوسف - رحمه الله -، وهو أقرب إلى الاحتياط لاختلاف العلماء - والآثار في كونها آية من الفاتحة. (وروى) ابن أبي رجاء عن محمد - رحمه الله تعالى - أنه قال إذا كان يخفي القراءة ‌يأتي ‌بالتسمية بين السورة والفاتحة؛ لأنه أقرب إلى متابعة المصحف، وإذا كان يجهر لا يأتي بها بين السورة والفاتحة؛ لأنه لو فعل لأخفى بها فيكون ذلك سكتة له في وسط القراءة ولم ينقل ذلك مأثورا."

(كتاب الصلاة، كيفية الدخول في الصلاة، ج:١، ص:١٦، ط:دارالمعرفة)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ثم عندنا إن لم يجهر بالتسمية لكن يأتي بها الإمام لافتتاح القراءة بها تبركا كما يأتي بالتعوذ في الركعة الأولى باتفاق الروايات، وهل يأتي بها في أول الفاتحة في الركعات الأخر؟ عن أبي حنيفة روايتان، روى الحسن عنه أنه لا يأتي بها إلا في الركعة الأولى؛ لأنها ليست من الفاتحة عندنا وإنما يفتتح القراءة بها تبركا وذلك مختص بالركعة الأولى كالتعوذ، وروى المعلى عن أبي يوسف عن أبي حنيفة أنه يأتي بها في كل ركعة وهو قول أبي يوسف ومحمد؛ لأن التسمية إن لم تجعل من الفاتحة قطعا بخبر الواحد لكن خبر الواحد يوجب العمل فصارت من الفاتحة عملا فمتى لزمه قراءة الفاتحة يلزمه قراءة التسمية احتياطا.

وأما عند رأس كل سورة في الصلاة فلا يأتي بالتسمية عند أبي حنيفة وأبي يوسف، وقال محمد يأتي بها احتياطا كما في أول الفاتحة، والصحيح قولهما؛ لأن احتمال كونها من السورة منقطع بإجماع السلف على ما مر وفي أنها ليست من الفاتحة لا إجماع فبقي الاحتمال فوجب العمل به في حق القراءة احتياطا، ولكن لا يعتبر هذا الاحتمال في حق الجهر."

(كتاب الصلاة، ج:١، ص:٢٠٤، ط:دار الكتب العلمية)

 عمدۃ الفقہ میں نماز کی سنتوں کے بیان میں لکھا ہے:

"نمبر10:پھر ہر رکعت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا۔"

(کتاب الصلاۃ، نماز کی سنتوں کا بیان، ج:2، ص:103، ط:زوار اکیڈمی)

عمدۃ الفقہ میں نماز کی پوری ترکیب کے عنوان کے تحت لکھا ہے:

"تعوذ کے بعد بسم اللہ الرحمن الرحیم آہستہ پڑھے، خواہ نماز جہری ہو یا سری، خواہ امام ہو یا منفرد، بسم اللہ ہر رکعت کے اول میں یعنی الحمد سے پہلے پڑھے، یہ امام ابو یوسف کا قول ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ فاتحہ اور سورت کے درمیان میں بسم اللہ پڑھنا سنت نہیں ہے، خواہ نماز سری ہو، یہی صحیح ہے، لیکن مکروہ بالاتفاق نہیں، بلکہ سورت سے پہلے آہستہ پڑھنا حسن ہے اگرچہ جہری نماز ہو، البتہ اگر سورت کی جگہ آیات پڑھےتو ان کے شروع میں بسم اللہ سنت نہ ہوگی بالاتفاق۔"

(کتاب الصلاۃ، نماز کی پوری ترکیب، ج:2، ص:108، ط:زوار اکیڈمی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505100306

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں