بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1443ھ 25 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

کیا دعائیہ مجموعے پڑھنے کے لیے اجازت ضروری ہے؟


سوال

بحوالہ فتویٰ نمبر۔۱۴۳۷۰۳۲۰۰۰۰۱

۱- مسنون اذکار کي کتابوں میں صبح شام کے اوقات کی تشریح  مذکور ہے ، اور تین اقوال ملتے ہیں:

۱-  پہلا قول ہے کہ صبح صادق سے مغرب تک کا وقت صبح میں شمار ہوگا  اور مغرب کے بعد صبح صادق تک شام اور رات میں شمار ہوگا۔

۲-دوسرا قول ہے کہ آدھی رات سے زوال تک صبح کا وقت شمار ہوگا اور زوال سے آدھی رات تک شام اور رات میں شمار ہوگا۔

۳- تیسرا قول  ہے کہ صبح صادق سے عصر تک کا وقت صبح میں شمار ہوگا اور عصر سے صبح صادق تک شام اور رات میں شمار ہوگا۔

اگر کوئی مسنون دعاؤں  اور اوراد وظائف میں اپنی سہولت کے لیے قول نمبر ۲ پر عمل کرے تو کیایوں کرنا  جائز ہے؟ اس قول میں کتنا ضعف ہے؟ 

۲- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں  یا کلام پاک کی دعائیہ  آیات پر مبنی جو کتابیں ہیں ،جیسے:حصن حصین، الحزب الاعظم، مناجات مقبول، ذریعۃ الوصول الی جناب الرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، دلائل الخیرات وغیرہ ،  ان میں سے اکثر میں  ہفتہ وار پڑھنے کی ترتیب ہے اور اپنی زندگی کا معمول بنانے کی ترغیب ہے،  اس کے لیے کسی کی خاص اجازت مشروط ہے یا یہ اجازت عام ہے؟  اگر کسی شخص کے عقائد صحیح ہیں اور وہ محض اللہ کی رضا کے لیے ، آخرت کی نجات کے لیے،ثواب کی نیت سے پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے؟ 

جواب

۱- صبح کے اذکار کے لیے سب سے اچھا وقت صبح صادق سے لے کر اشراق تک کا ہے، البتہ اگر اس وقت میں کسی سے رہ جائے تو زوال سے پہلے پہلے تک بھی کرسکتے ہیں۔  جب کہ شام کے اذکار کا بہترین وقت ،عصر سے مغرب کے درمیان ہے، لیکن اگر اس وقت میں نہ ہوسکیں تو پوری رات میں کسی بھی وقت شام والے اذکار  کیے جاسکتے ہیں۔ البتہ جن اذکار یا دعاؤں کے ساتھ حدیث شریف میں مثلاً مغرب کی نماز کے بعد پڑھنے کا ذکر ہو تو ان اذکار یا دعاؤں کو مغرب کی نماز کے بعد ہی پڑھنا چاہیے۔نیز بوقت عذر وضرورت سوال میں مذکور دوسرے یا تیسرے قول پر بھی عمل کرسکتے ہیں۔  

۲-   مسنون اَذکار  کی مذکورہ کتابوں کے پڑھنے کے لیے بہتر  صورت یہ ہے کہ کسی متبعِ سنت وصاحبِ اجازت بزرگ کی اجازت  و راہ نمائی سے روزانہ ایک منزل بھی پڑھ لی جائے، اور درودِ ابراہیمی وغیرہ کا بھی اہتمام کیا جائے، تاکہ دونوں کی برکات اور فضائل حاصل ہو جائیں، لیکن یہ اجازت  فرض  یا واجب قبیل کی چیز نہیں، اس کے بغیر بھی یہ کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200904

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں