بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1442ھ- 04 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا دو عیدوں کے درمیان نکاح کرنا درست نہیں؟


سوال

 کچھ لوگوں سے سنا ہے کہ دو عیدوں یعنی چھوٹی عید اور بڑی عید کے درمیان والے وقت میں شادی (نکاح) نہیں کرنا چاہیے،  یہ اچھا نہیں ہوتا،  مطلب مستقبل کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ میری اپنی رائے کے مطابق یہ بات مجھے ٹھیک نہیں لگتی،  لیکن باوجود اس کے میں آپ کی راہ نمائی چاہتا ہوں۔ اور تفصیل سے جواب چاہتا ہوں!

جواب

عید الفطر اور عید الاضحی کے درمیانی عرصہ میں نکاح کرنا اور بیوی کو رخصت کرا کر اپنے گھر لانا، شبِ زفاف ساتھ گزارنا سب جائز ہے، خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح بھی ماہِ شوال میں کیا تھا، اور انہیں باقاعدہ رخصت کراکر اپنے گھر  بھی ماہِ شوال میں لائے تھے،  پس اگر ایسا کرنا مستقبل کی ازدواجی زندگی کے لیے درست نہ ہوتا تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کرتے،  یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  شوال میں نکاح کو مستحب قرار دیتی ہیں۔ہاں! زمانہ جاہلیت میں شوال میں نکاح کو معیوب و نا مناسب سمجھا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے اس رسم کا خاتمہ فرمایا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں دو عیدوں کے درمیان نکاح کو ازدواجی زندگی کے لیے نا مناسب سمجھنا محض توہم پرستی اور جاہلی نظریے کا اثر ہے،  جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔

صحيح مسلم  میں ہے:

"حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي؟»، قَالَ: «وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ»". ( بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّزَوُّجِ وَالتَّزْوِيجِ فِي شَوَّالٍ، وَاسْتِحْبَابِ الدُّخُولِ فِيهِ، رقم الحديث: ١٤٢٣، ٢ / ١٠٣٩، ط: دار إحياء التراث العربي)

المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج للنووي  میں ہے:

"(واستحباب الدخول فيه)

[1423] (قَوْلُهُ: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي، قَالَ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تستحب أن تدخل نسائها فِي شَوَّالٍ) فِيهِ اسْتِحْبَابُ التَّزْوِيجِ وَالتَّزَوُّجِ وَالدُّخُولِ فِي شَوَّالٍ، وَقَدْ نَصَّ أَصْحَابُنَا عَلَى اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتَدَلُّوا بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَصَدَتْ عَائِشَةُ بِهَذَا الْكَلَامِ رَدَّ مَا كَانَتِ الْجَاهِلِيَّةُ عَلَيْهِ وَمَا يَتَخَيَّلُهُ بَعْضُ الْعَوَامِّ الْيَوْمَ مِنْ كَرَاهَةِ التَّزَوُّجِ وَالتَّزْوِيجِ وَالدُّخُولِ فِي شَوَّالٍ، وَ هَذَا بَاطِلٌ لَا أَصْلَ لَهُ، وَ هُوَ مِنْ آثَارِ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَتَطَيَّرُونَ بِذَلِكَ لِمَا فِي اسْمِ شَوَّالٍ مِنَ الْإِشَالَةِ والرفع". (باب استحباب التزوج والتزويج في شوال، ٩ / ٢٠٩، ط: دار إحياء التراث العربي)

فتاوی شامی میں ہے:

"[تَنْبِيهٌ]

قَالَ فِي الْبَزَّازِيَّةِ: وَالْبِنَاءُ وَالنِّكَاحُ بَيْنَ الْعِيدَيْنِ جَائِزٌ وَكُرِهَ الزِّفَافُ، وَالْمُخْتَارُ أَنَّهُ لَايُكْرَهُ «لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَزَوَّجَ بِالصِّدِّيقَةِ فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِهَا فِيهِ»، وَتَأْوِيلُ قَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «لَا نِكَاحَ بَيْنَ الْعِيدَيْنِ» إنْ صَحَّ أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ رَجَعَ عَنْ صَلَاةِ الْعِيدِ فِي أَقْصَرِ أَيَّامِ الشِّتَاءِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَهُ حَتَّى لَايَفُوتُهُ الرَّوَاحُ فِي الْوَقْتِ الْأَفْضَلِ إلَى الْجُمُعَةِ. اهـ". ( كِتَابُ النِّكَاحِ، ٣ / ٨، ط: دار الفكر) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109200329

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں