بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1445ھ 14 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا بیع کے بعد بائع مبیع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟


سوال

میں نے  ایک دکان خریدی ہے  جس کی  کل قیمت دو کروڑ تیس لاکھ روپے ہے، جس شخص سے خریدی تھی ان سے چھ مہینے  میں رقم کی ادائیگی  کی بات کی تھی ، شروع میں یعنی خریدنے کے وقت نہ انہوں نے  قبضہ کی بات کی تھی اور  نہ ہی ہم نے قبضہ کی بات کی تھی، صرف پیپر یعنی کاغذ ٹرانسفر کی بات ہوئی تھی کہ رقم ادائیگی کے بعد کاغذ آپ کے نام ٹرانسفر ہو جائیں گے، مارکیٹ کے اعتبار سے پچاس پرسنٹ  کے بعد یا تو قبضہ ہوگا یا کاغذ حوالہ ہوں گے، تو ہم وقت سے پہلے 65 فیصد رقم ادا کرچکے ہیں، اب ہم اس مقام پر کھڑے ہیں  کہ نہ قبضہ ملا ہے، نہ کاغذ نام پر ہوئے ہیں، کرایہ بھی وہی لوگ لے رہے ہیں، آیا اگر ہم قبضہ لیں تو شرعی اعتبار سے وہ ہمیں دے سکتےہیں، کوئی مضائقہ تو نہیں؟ یا قبضہ کے بعد ہمیں آدھا کرایہ ان کو دینا  پڑے گا؟  براہِ  کرم شریعت کی رو سے راہ نمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ  تجارتی معاملہ میں بائع (بیچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا) کے درمیان  جو قیمت طے ہوتی ہے وہ یا تو  نقدی ہوتی ہے یا ادھار، نقدی رقم کی صورت میں بائع کو مبیع ( فروخت کردہ چیز) کو اس  وقت تک اپنے پاس روکے رکھنے کا حق ہوتا ہے  جب تک کہ مشتری پوری قیمت ادا نہ کرے، ادھار کی صورت میں بائع کو مبیع کو روکے رکھنے کا حق نہیں ہوتا، بہر صورت بیع کے بعد مشتری کی ملکیت مبیع میں ثابت ہوجا تی ہے اور بائع   مبیع سے منافع حاصل کرنے کا حق  نہیں رکھتا، البتہ اگر دونوں متعاقدین کے درمیان  تجارتی معاملہ کے  دوران قبضہ کے متعلق کوئی معاہدہ   ہوا تھا تو اس کی پاسداری کرنا ضروری ہے۔

صورتِ مسئولہ میں  جب سائل اور بائع کے درمیان ادھار پر  بیع  ہوچکی، تو  اب بائع اس دکان سے کرایہ وصول نہیں کرسکتا، جتنے عرصہ کا کرایہ بیع کے بعد  وصول کیا ہے وہ بائع پر لازم ہے کہ سائل کو واپس کردے، چوں کہ متعاقدین کے درمیان بیع  کے  وقت قبضہ سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی تھی اور فروخت کردہ دکان ادھار پر  خریدی گئی تھی  ، لہذا  سائل کو دکان پر قبضہ کرنے کا پورا حق ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ويسلم الثمن أولا في بيع سلعة بدنانير ودراهم) إن أحضر البائع السلعة أو ثمن بمثله (سلما معا) ما لم يكن أحدهما دينا كسلم وثمن مؤجل

(قوله: إن أحضر البائع السلعة) شرط لإلزام المشتري بتسليم الثمن أولا والشرط أيضا كون الثمن حالا، وأن لا يكون في البيع خيار للمشتري، فلا يطالب بالثمن قبل حلول الأجل ولا قبل سقوط الخيار. وأفاد أن للبائع حبس المبيع حتى يستوفي كل الثمن."

(560/4، کتاب البیوع، ط:سعید)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"قال أصحابنا رحمهم الله تعالى: للبائع حق حبس المبيع لاستيفاء الثمن إذا كان حالا كذا في المحيط. و إن كان مؤجلًا فليس للبائع أن يحبس المبيع قبل حلول الأجل ولا بعده."

(15/3، کتاب البیوع،ط: رشیدیۃ)

وفیہ ایضاً:

"الزيادة المتولدة من البيع كالولد والعقر والأرش والتمر واللبن والصوف وغيرها مبيعة كذا في محيط السرخسي فإن حدثت قبل القبض كانت لها حصة من الثمن وإن حدثت بعد القبض كانت مبيعة تبعا ولا حصة لها من الثمن أصلا ولو أتلف البائع النماء المتولد من المبيع قبل القبض سقطت حصته من الثمن على قيمة الأصل يوم العقد وعلى قيمة الولد يوم الاستهلاك."

(170/3، کتاب البیوع،ط: رشیدیۃ)

کتاب الاصل میں ہے:

"وإذا اشتری الرجل من الرجل عبداً بألف درھم حالۃ فلیس للمشتری اّن يقبض العبد حتى يعطي الثمن۔فإذا أعطاه الثمن فله أن يقبض العبد."

(573/2، کتاب البیوع والسلم، ط: دار ابن حزم)

فتاویٰ تاترخانیہ میں ہے:

"قال أصحابنا: و للبائع حق حبس المبيع لاستيفاء الثمن إن كان الثمن حالاّ، و إن كان الثمن مؤجلاّ لم يكن له حق حبس المبيع."

(كتاب البيوع، گ:8، ص:242، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101281

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں