بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا اسود عنسی کے قتل کے موقع پر اذان میں اعلان ہوا تھا؟


سوال

جب اسود عنسی کا قتل ہوا تو کیا اذان میں اس کے جہنم واصل ہونے کا اعلان ہواتھا؟ اگر ہوا تھا تو اس عمل کو شرعی اصطلاح میں کیا کہتے ہیں؟ 

جواب

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ وغیرہ مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ اسود عنسی کے قتل کے موقع پر قیس یا وبر بن یحنس نے قلعے کی فصیل پر کھڑے ہوکر پہلے مخصوص شعار کے ذریعے لوگوں کو متوجہ کیا اور پھر ان الفاظ کے ساتھ اعلان کیا : ’’أشهد أن محمد رسول الله، و أن عبهلة کذاب‘‘ (۶ / ۴۳۵)۔ یہاں اگرچہ اذان کے الفاظ بھی ملتے ہیں، لیکن اذان سے مراد اصطلاحی اذان نہیں، بلکہ لغوی مفہوم میں اذان بمعنی اعلان مراد ہے۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144202200831

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں