بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قاتلینِ عثمان رضی اللہ سے قصاص لیا یا نہیں؟


سوال

حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اختلاف کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لیا جائے ، اسی بنا پر کافی جنگیں بھی ہوئیں اور مسلمانوں میں اختلافات بھی،  لیکن میرا سوال یہ ہے کہ جب حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے بادشاہ بن گئے تو آپ نے حضرت عثمان کے قاتلوں سے قصاص کیوں نہیں لیا ؟ براہ مہربانی وضاحت فرما دیں کیونکہ آج کل لوگ اس طرح کے بہت سے اعتراضات اٹھاتے ہیں ۔ 

جواب

واضح رہے کہ  امارت ملنے کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے  حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے قصاص لیا ،جیسا کہ  مؤرخین نے اس بات کی صراحت کی ہے ،اور شام کے علاقہ حمص میں  "جبل الجلیل "کے مقام    پر ایک قید خانہ کا تذکرہ کیا ہے ،جہاں پر   حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ  میں سے  جس کی نشاندہی ہو جاتی اس کو قید کیا کرتے تھے ،اور جو قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ  میں شرکت یا معاونت کا اقرار کرتایا اس پر حجت قائم ہو جاتی  اس کو قتل  کر دیتے ،اس  طرح  کے چند اشخاص کا تذکرہ ملتا ہے ،جن کو   اسی جرم کی پاداش میں قید کیا گیا ، وہ قید سے بھاگے،پھر دوبارہ ان کو پکڑ کر قید کر دیا گیا ۔

نوٹ :

نیز  یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ حضراتِ صحابہٴ کرام بالخصوص سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اختلاف میں کھود کرید کرنے سے دنیا وآخرت کا کچھ اپنا ہی نقصان ہے، قرآن کریم حدیث شریف میں ایسا کوئی مضمون وارد نہیں کہ قبر وحشر میں آپ سے ہم سے یا دیگر مسلمانوں سے ان جیسے امور کے متعلق سوال ہوگاکہ ان اختلافات میں کھود کرید کیوں نہیں کی تھی؟ اس لیے عافیت والی صورت یہی ہے کہ جو کام  ہمارے ذمہ شریعت مطہرہ نے لازم کیے ہیں ہم ان ہی کو لازم پکڑے رہیں۔

معجم البلدان میں ہے :

"جبل الجليل: في ساحل الشام ممتد إلى قرب حمص كان معاوية يحبس في موضع منه من يظفر به ممن ينبز بقتل عثمان بن عفان، رضي الله عنه."

(‌‌باب الجيم واللام وما يليهما،الجليل ،ج:2،ص:157 ،ط:دارصادر)

انساب الاشراف للبلازریؒ میں ہے :

"وو الذي لا إله غيره لنطلبن قتلة عثمان في ‌الجبال ‌والرمال والبر والبحر حتى نقتلهم أو تلحق أرواحنا بالله والسلام."

(‌‌أمر (حرب) صفين،ج:2،ص:278 ،ط:دارالفکر)

جمھرۃ انساب العرب لابن حزم  میں ہے :

"ولأبرهة ابنان: أبو شمر، قتل يوم صفين مع علىّ-رضى الله عنه-وكانت تحته بنت أبي موسى الأشعرىّ؛ والصحيح أنّه كان أحد المجلبين على عثمان-رضى الله عنه-فأخذه معاوية مع عبد الرحمن بن عبد الله، ومحمّد بن أبي حذيفة، ومع ‌كنانة ‌بن ‌بشر وغيرهما رهائن، إذ مضى إلى مصر قبل صفين وسجنهم؛ فهربوا من السجن؛ فأدركوا؛ فقتلهم معاوية كلّهم."

(‌‌وهؤلاء بنو حمير بن سبأ بن يشجب بن يعرب بن قحطان،ص:435 ،ط:دارالكتب العلمية)

الاماکن للھمدانی میں ہے :

"بَابُ جُلَيْلٍ وحُلَيْلٍ:

أما اْلأَوَّلُ: - بِفَتْحِ الجيم وكسر اللام -: ‌جبلُ ‌الجليل في ساحل الشام، متصل إلى قُربَ مصر، كان معاوية حبس فيه من كان ظفر به ممن كان ينبز بقتل عُثمان، وهُناك قُتل عبد الرحمن بن عديس البلوي، قتله بعضُ الأعراب لما اعترف عنده بقتل عُثمان."

(بَابُ جُلَيْلٍ وحُلَيْلٍ،ص:242،ط:داراليمامة)

خطط الشام میں ہے :

"قال بشأن البيعة: فصح أن علياً هو صاحب الحق الإمام المفترضة طاعته ومعاوية مخطئ مأجور مجتهد قال: ولم يقاتل عليٌّ معاوية لامتناعه من بيعته لأنه كان يسعه في ذلك ما وسع ابن عمر وغيره ولكن قاتله لامتناعه من إنفاذ أوامره في جميع أرض الشام وهو الإمام الواجبة طاعته، فعليّ المصيب في هذا ولم ينكر معاوية قط فضل عليّ واستحقاقه الخلافة، لكن اجتهاده أداه إلى رأي تقديم أخذ القَوَد من قتلة‌‌ عثمان رضي الله عنه على البيعة، ورأى نفسه أحق بطلب دم عثمان والكلام فيه عن ولد عثمان وولد الحكم بن أبي العاص لسنه ولقوته على الطلب بذلك."

(عثمان ،ج:1،ص؛105 ،ط:مكتبة النوري)

شرح العقائد النسفيۃ میں ہے:

"وما وقع من المخالفات و المحاربات لم يكن من نزاعٍ في خلافته، بل عن خطاء في الإجتهاد."

و في هامشه:

"والمقصود منه دفع الطعن من معاوية و من تبعه من الأصحاب و عن طلحة و زبير و عائشة؛ فإن الواجب حسن الظن بأصحاب رسول الله صلي الله عليه وسلم و اعتقاد براءتهم عن مخالفة الحق؛ فإنهم أسوة أهل الدين و مدار معرفة الحق و اليقين."

(شرح العقائد، ص:152، ط:المصباح)

النبراس على شرح عقائدمیں ہے:

"خصه بالذكر؛ لأن حربه أشهر من حرب الباقين؛ و الخطاء هو الاستعجال في طلب قصاص عثمان رضي الله عنه زعماً أن التاخير يوجب جرءة العوام على الأكابر، و كثيراً ما يفوت المطلوب... الخ."

(ص: 502، ط: رشيدية)

مرقاة المفاتيح میں ہے:

"وعن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " سألت ربي عن اختلاف أصحابي من بعدي فأوحى إلي: يا محمد إن أصحابك عندي بمنزلة النجوم في السماء بعضها أقوى من بعض ولكل نور فمن أخذ بشيء مما هم عليه من اختلافهم فهو عندي على هدى " قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أصحابي كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم» . رواه رزين."

(کتاب المناقب و الفضائل، باب مناقب الصحابہ ، ج: 9، ص نمبر 3882، دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"لما في الاختيار اتفق الأئمة على تضليل أهل البدع أجمع وتخطئتهم وسب أحد من الصحابة وبغضه لا يكون كفرا، لكن يضلل إلخ. وذكر في فتح القدير أن الخوارج الذين يستحلون دماء المسلمين وأموالهم ويكفرون الصحابة حكمهم عند جمهور الفقهاء وأهل الحديث حكم البغاة. وذهب بعض أهل الحديث إلى أنهم مرتدون. قال ابن المنذر: ولا أعلم أحدا وافق أهل الحديث على تكفيرهم، وهذا يقتضي نقل إجماع الفقهاء. وذكر في المحيط أن بعض الفقهاء لا يكفر أحدا من أهل البدع. وبعضهم يكفرون البعض، وهو من خالف ببدعته دليلا قطعيا ونسبه إلى أكثر أهل السنة، والنقل الأول أثبت وابن المنذر أعرف بنقل كلام المجتهدين، نعم يقع في كلام أهل المذهب تكفير كثير ولكن ليس من كلام الفقهاء الذين هم المجتهدون بل من غيرهم، ولا عبرة بغير الفقهاء، والمنقول عن المجتهدين ما ذكرنا اهـ."

(کتاب الجہاد ،ج:4،ص : 237،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507101144

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں