بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1444ھ 04 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کیا اللہ کو رحم نہیں آتا؟ کہنے سے کفر کا حکم


سوال

ایک شخص نے پریشانیوں سے تنگ آکر یہ کہا کہ کیا اللہ کو رحم نہیں آتا ! کیا اس پر تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ جن الفاظ میں ضروریاتِ دین میں سے کسی بات کا انکار یا اعتراض ہو یا صریح حکم الہی کو تبدیل کرکے بیان کیا جائے یا دین کے کسی بھی حکم یا بات کا استہزا و مذاق اڑایا جائے، اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات و صفات میں سے کسی کا انکار، اعتراض، استہزا یا استخفاف ہو، یا کسی نبی علیہ السلام کی توہین و گستاخی یا استخفاف ہو، وغیرہ۔ اس قسم کے الفاظ کہنے سے (العیاذ باللہ) ایمان سلب  ہوجاتاہے۔لہذا صورت مسئولہ میں  مذکورہ شخص کا یہ کہنا کہ کیا اللہ تعالی کو رحم نہیں آتا؟ اس جملہ میں اللہ تعالی کی صفت رحیم کی نفی  کی ہے  یا شک کیا ہے تو  اس سے مذکورہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوچکا ہے لہذا اس پر تجدید ایمان اور تجدید نکاح ضروری ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها ما يتعلق بذات الله تعالى وصفاته وغير ذلك) يكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أو نكر وعده ووعيده، أو جعل له شريكا، أو ولدا، أو زوجة، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص ويكفر بقوله يجوز أن يفعل الله تعالى فعلا لا حكمة فيه ويكفر إن اعتقد أن الله تعالى يرضى بالكفر كذا في البحر الرائق."

(کتاب السیر ، الباب التاسع فی احکام المرتدین جلد ۲ ص : ۲۵۸ ط : دار الفکر)

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144311100401

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں