بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا عالم کا گناہ جاہل سے زیادہ ہے؟


سوال

ایک عالم گناہ کرتا ہے ،اور ایک جاہل(  غیر عالم) گناہ کرتا ہے ،زیادہ گناہ کس کو ہو گا؟

جواب

گناہ کا کم زیادہ ،یا بڑا چھوٹا ہونا ایک نسبتی چیز ہے،یعنی گناہ کے کم ،زیادہ ،بڑا یاچھوٹا ہونے کا مدار فاعل کی نیت اور کیفیت پر ہے،اس حیثیت سے تو کوئی گناہ بھی کم درجہ کا نہیں کہ وہ اللہ جل شانہ کی نافرمانی ہے،اگر کوئی آدمی گناہ کرتا ہےاور اس کے دل میں اللہ کا خوف و خشیت غالب ہے،ظاہر ہے کہ اس کا گناہ اس شخص کے مقابلے میں کم ہے جو تہاوناً اور استخفافا( گناہ کو چھوٹا سمجھتے ہوئے )گناہ کرتا ہے۔اگر ایک آدمی گناہ کرتا ہےجسے گناہ کا گناہ ہونا معلوم نہیں،اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ اگر اسے اس کام کا گناہ ہونا معلوم ہوجائے  تو اللہ کے خوف سے کانپ جائے،اور ندامت کی وجہ سے پانی پانی ہوجائے،ایسے شخص کے بارے میں امید کی جاسکتی  ہے کہ  اللہ  تعالی اس  سے گناہ پر مؤاخذہ نہ فرمائیں گے،لیکن اگر جاہل آدمی( جسے گناہ کا گناہ ہونا معلوم نہیں )گناہ کرے،اور اس کی   قلبی حالت  یہ ہے کہ اگر اس کو اپنے گناہ پر اطلاع بھی  ہوجائےتو  اس  کو اپنے گناہ پر   نہ شرمندگی  ہو ،اور نہ  اس سے توبہ کرے،  ایسے شخص کے حق میں گناہ سے جاہل  ہونا گناہ  کے وبال میں کمی نہ کرے گا ، بلکہ اس کے گناہ کو ہلکا سمجھنے کی وجہ سے گناہ کا وبال بڑھ جائے گا۔

نیز عالم  کے گناہ کا کم یا زیادہ ہونا بھی اس کی قلبی کیفیت پر ہے، علی سبیل التہاون گناہ کرنے کا وبال زیادہ ہے،لیکن جو عالم گناہ بھی کرے اور  اس پر شرمندہ بھی ہو،اور توبہ بھی کرے ،اس کا گناہ کم ہے۔

 تاہم اس اعتبار سے عالم کو زیادہ محتاط رہنے  کی ضرورت ہے کہ  عوام کا پیشوا اور مقتدا ہونے کی حیثیت سے نفع کی طرح اس کا  ضرر بھی متعدی ہے، معروف ہےکہ  زلة العالِم زلة العالَم(عاِلم کے  بھٹکنے سے پورا عالَم بھٹک جاتا ہے)،یعنی عالم کی غلطی زیادہ خطرناک ہے اوراس کا وبال زیادہ ہے، اس لیے عالم  کو زیادہ تقوی و پرہیز گاری اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ بھی بعض  وجوہات سے گناہ کی شناعت بڑھ جاتی ہے،مثلاً:

1:علانیہ گناہ کرنا۔

2:گناہ پر  اصرار کرنا۔

3:گناہ کو معمولی سمجھ کر کرنا۔

مرقات شرح مشکات میں ہے:

"الكبائر:جمع كبيرة، وهي السيئة العظيمة التي خطيئتها في نفسها كبيرة، وعقوبة فاعلها عظيمة بالنسبة إلى معصية ليست بكبيرة، وقيل: الكبيرة ما أوعد عليه الشارع بخصوصه، وقيل: ما عين له حد، وقيل: النسبة إضافية، فقد يكون الذنب كبيرة بالنسبة لما دونه، صغيرة بالنسبة إلى ما فوقه، وقد يتفاوت باعتبار الأشخاص والأحوال كما قيل: حسنات الأبرار سيئات المقربين، وقد يتفاوت باعتبار المفعول، فإن إهانة السادات والعلماء ليست كإهانة السوقة والجهلاء، وللشيخ ابن حجر كتاب نفيس في هذا الباب يسمى: الزواجر عن الكبائر، وقيل: كل معصية كبيرة نظرا إلى عظمة الله تعالى، وقيل: لا صغيرة مع الإصرار، ولا كبيرة مع الاستغفار، وقيل: بإبهام الكبيرة من بين الذنوب؛ لئلا يرتفع الخوف من القلوب."

(کتاب الإيمان،باب الكبائر،ج: 1،ص: 121،ط: دارالفكر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144411101963

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں