بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا عاق کیا گیا بیٹا والد کی میراث کا حق دار ہے؟


سوال

ایک بیٹے کی شادی کے بعد باپ اور بیٹے کے درمیان تعلقات صحیح نہیں تھے اسی وجہ سے باپ نے اس بیٹے کو گھر سے نکال دیا اور اس کو اپنی جائیداد سے عاق  کر دیا اور بیٹے سے اسٹیمپ پیپر پر یہ لکھوالیا کہ باپ کہ مرنے کہ بعد بیٹے کا باپ کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہوگا اور بیٹے نے اس اسٹیمپ پیپر پر دستخط بھی کردیے، اس صورت میں باپ کے انتقال کے بعد اس بیٹے کا باپ کی جائیداد میں حصہ ہوگا یا نہیں ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ عاق  کرنے  کے معنی نا فرمان قرار دینا ہے، جس کی میراث سے محرومی کےحوالے سے شرعاً  کوئی حیثیت نہیں  ہے،  پس والد کا  اپنی اولا د میں سے کسی کو عاق کرنے سے وہ  عاق ( نافرمان ہونے کی وجہ سے) میراث سے محروم نہیں ہوگا،  بلکہ وہ بدستور اس  کی اولاد میں شامل  رہے گا اور والد کی موت کے بعد اس  کے ترکہ  میں اپنے شرعی حصہ کا حق دار ہوگا، البتہ وہ والد  کی نافرمانی کی وجہ سے  کبیرہ گناہ  کا  مرتکب  ہے، جس  پر  عنداللہ  اس کامواخذہ ہوگا، بشرطیکہ والد کی زندگی میں ہی معافی تلافی نہ کی ہو۔

پس صورتِ مسئولہ میں اگر والد نے بیٹے کو اپنی جائیداد میں سے کچھ  دیے بغیر اسٹامپ پیپر پر دستخط کروائے تھے تو شرعاً اس دستخط کی کوئی حیثیت نہیں، والد کی موت کے بعد مذکورہ بیٹا باقی ورثاء کی طرح میراث کا حق دار ہوگا، البتہ اگر والد نے جائیداد میں سے کچھ  دے کر اسے فارغ کردیا ہو، تو اس صورت میں یہ حق دار نہ ہوگا۔

 تکملة رد المحتار  لمحمد علاء الدین   میں ہے: 

"الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط ... الخ" (کتاب الدعوی، باب التحالف، فصل في دفع الدعاوی ،ج:۷،ص:۵۰۵،ط:سعید) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108201650

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں