بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کویت میں قسطوں کا کاروبار کرنا


سوال

1. میں کویت میں ہوتا ہوں،  یہاں پرقسطوں پرکاروبار  کیاجاتا ہے، کیا قسطوں پرکاروبار کرنا جائز ہے؟

2. میرے پاس مشین ہے جو که  میں کسی بھی دفتر والےکے نام پے کر کے ان سےپیسے لے سکتاہوں، اگروہ   مجھے  5000  دیں گے تو  7000  واپس  لیں گے قسطوں پر۔

کیا میں مشین ان کے نام پر کرکے ان سے پیسے لے سکتاہوں ؟

جواب

ہر شخص کے لیے اپنی مملوکہ چیز کو اصل قیمت میں کمی زیادتی کے  ساتھ نقد اور ادھار دنوں طرح فروخت کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اور جس طرح ادھار پر سامان فروخت کرنے والا اپنے سامان کی قیمت یک مشت وصول کرسکتا ہے ، اسی طرح اس کو یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس رقم کو قسط وار وصول کرے، اسے اصطلاح میں ”بیع بالتقسیط“یعنی قسطوں پر خریدوفروخت کہتے ہیں، اور اس بیع کے صحیح ہونے کے لیے درج ذیل شرائط کا لحاظ اور رعایت کرنا ضروری ہے :

1- معاملہ متعین ہو کہ نقد کا معاملہ کیا جارہا ہے یا ادھار۔

2- قسط کی رقم متعین ہو۔

3- مدت متعین ہو۔

4-  کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت  میں کسی بھی عنوان سے اس میں اضافہ وصول نہ کیا جائے ،  نہ ہی وقت سے پہلے قیمت کی ادائیگی کی صورت میں قیمت میں کمی مشروط ہو۔

اگر بوقتِ عقد یہ شرط ہوگی تو پورا معاملہ ہی فاسد ہوجائے گا۔

لہذا آپ اگر کویت میں رہ کر  مذکورہ شرائط  کی  رعایت کرتے ہوئے قسطوں کا کاروبار کرتے ہیں تو ایسا کرنا جائز ہے۔

 تاہم آپ نے نمبر دو میں اپنے کاروبار کی جو صورت ذکر کی ہے، یہ واضح نہیں ہے، اس کو وضاحت کے ساتھ لکھ کر  سوال دوبارہ  بھیج  دیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201885

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں