بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کتے کے ذریعہ چور معلوم کرنے کاحکم


سوال

کتے کے ذریعہ چور وغیرہ معلوم کرنا ازروئے شریعت معتبر ہے یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی کو مجرم ثابت کرنے کے شرعاً دو طریقے ہیں:
۱:… مجرم خود جرم کا اعتراف کرے۔
۲:…یا شرعی شہادت کے ذریعے جرم ثابت کیا جائے۔
 اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے کسی کو مجرم ثابت نہیں کیا جاسکتا، یہاں تک کہ اگر انسانوں کی گواہی میں نصابِ شہادت مکمل نہ ہو تو ایسے انسانوں کی گواہی کا اعتبار بھی نہیں کیا جاسکتا۔بنابریں صورتِ مسئولہ میں کتوں کی نشان دہی کے ذریعے کسی کو قاتل یا چور ثابت کرنا شرعاً معتبر نہیں؛ کیوں کہ شرعی لحاظ سے کتے کی راہ نمائی ونشان دہی نہ تو گواہی ہے، نہ ہی انسانی گواہوں کے قائم مقام ہے۔گو بعض مواقع پر دیگر قرائن کے ساتھ مل کر کتے کی نشان دہی بطورِ تائید مقدمے میں پیش رفت کے لیے استعمال کرنے کی گنجائش نکل سکتی ہے، لیکن صرف کتوں کی نشان دہی کی بنیاد پر چوری وغیرہ کے دعویٰ  کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ایسا دعویٰ  عدمِ ثبوت  (گواہی یا اعتراف نہ ہونے) کی بناپر قابل رد ہے۔

حدیث شریف میں ہے:
’’عن ابن عباس رضي الله عنه عن النبي صلی الله علیه وسلّم قال: ’’لو یعطی الناس بدعواهم لادعی ناس دماء رجال وأموالهم، ولکن الیمین علی المدعی علیه‘‘. رواه مسلم ... عن ابن عباس رضي الله عنه مرفوعًا: لکن البینة علی المدعي والیمین علی من أنکر‘‘. (مشکاة المصابیح، باب الأقضیة والشهادات، ۳۲۶، ط:قدیمی)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
’’وقال النووي: هذا الحدیث قاعدة شریفة کلیة من قواعد أحکام الشرع ففیه أنه لایقبل قول الإنسان فیما یدعیه بمجرد دعواه بل یحتاج إلى بینة أو تصدیق المدعٰی علیه‘‘. (مرقاة المفاتیح، ج:۷،ص:۲۵۰، ط: مکتبة إمدادیة، ملتان)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
’’أما أقسام الشهادة: فمنها الشهادة علی الزنا وتعتبر فیها أربعة من الرجال، ومنها الشهادة ببقیة الحدود والقصاص، تقبل فیها شهادة رجلین ولاتقبل في هذین القسمین شهادة النساء، هکذا في الهدایة‘‘. (الفتاوی الهندیة،کتاب الشهادات، الباب الأول في تعریفها، ج: ۳، ص:۴۵۱، ط:رشیدیة) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107200947

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں