بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 رمضان 1442ھ 06 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

کتا مار مہم کے دوران غیر زہریلے کتے بھی نشانہ بنے تو کیا یہ ظلم ہوگا؟


سوال

 آج کل کراچی اور لاہور کے بہت سے علاقوں میں کتے مار مہم چل رہی ہے جو کہ زہریلے کتوں کے خلاف حکومت کی طرف سے اٹھایا ہوا ایک قدم ہے،  لیکن اس مہم میں ان بے زبان جانوروں کو بھی مارا جا رہا ہے جو بے قصور ہیں۔ کیا یہ جانوروں کے ساتھ زیادتی اور ظلم نہیں؟ کیا اسلام میں اس ظالمانہ عمل کی ذرا سی بھی گنجائش ہے؟

جواب

جب کسی  علاقہ  میں آوارں کتوں کی  تعداد بڑھ  جائے اور  لوگوں کے لیے نقصان  و تکلیف کا باعث بن جائے  تو حکومت لوگوں  کی حفاظت کے  لیے کتا مار مہم شروع کرتی ہے، یہ  شرعًا جائز ہے، بلکہ بعض اوقات یہ ضروری ہوجاتاہے۔  باقی  اس مہم  کے دوران اگر غلطی سے غیر زہریلے کتے  بھی نشانہ بن جاتے ہیں  تو شرعًا  اس میں حرج نہیں ؛ کیوں کہ مذکورہ ٹیم کا اصل مقصد    ان کتوں کو مارنا   ہوتا ہے جو  لوگوں  کے  لیے تکلیف اور ضرر  کا باعث بنتے ہوں  یا بن  سکتے  ہوں، اور یہ کائنات اللہ تعالیٰ نے انسان (اشرف المخلوقات) کے نفع کے لیے بنائی ہے، انسان کے لیے جو چیز مضر ہو  اسے تلف کرنے کی شرعًا اجازت ہے، اسی طرح جو چیز انسان کے لیے نافع ہو، شرعی حدود میں رہ کر اس سے استفادے کی شریعت نے اجازت دی ہے، جیساکہ گائے، بکری وغیرہ حلال جانوروں کو ذبح کرکے کھانے کی اجازت دی ہے۔

اسی طرح کتا زہریلا ہوجائے یا گلی محلوں میں ان کی کثرت ہوجائے کہ وہ ہر چیز میں منہ مارنے لگیں تو  یہ انسان کے لیے  مضر ہوجاتاہے،  انتظامیہ اس موقع پر اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسے اقدام کرتی ہے، اس  دوران  نقصان دہ  اور غیر نقصان دِہ  کتوں میں فرق مشکل ہونے کی وجہ سے  اگر غیر ضرر رساں  کتے بھی نشانہ بن  جائیں تو اس میں حرج نہیں۔

ہاں! بالقصد اور  بلاوجہ غیر ضرر رساں کتوں کو مارنا جائز نہیں،  کتوں کو مارنے کا جو حکم رسول اللہ ﷺ نے ابتداءِ اسلام میں دیا تھا، وہ  منسوخ ہوچکا  ہے، ابتدا میں در اصل لوگوں کے دلوں سے کتے کی محبت نکالنا مقصود تھا، وہ حاصل ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمادیا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"قرية فيها كلاب كثيرة، ولأهل القرية منها ضرر يؤمر أرباب الكلاب أن يقتلوا الكلاب فإن أبوا رفع الأمر إلى القاضي حتى يلزمهم ذلك، كذا في محيط السرخسي."

(الفتاوى الهندية: كتاب الكراهية، الباب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات (5/ 360)،ط. رشيديه)

البحر الرائق میں ہے:

"قرية فيها كلاب كثيرة ولأهل القرية منها ضرر يؤمر أرباب الكلاب بأن يقتلوا كلابهم؛ لأن دفع الضرر واجب، وإن أبوا ألزمهم القاضي."

(البحر الرائق: كتاب الكراهية، خصي البهائم (8/ 232)،ط. دار الكتاب الإسلامي)

الدر المختار میں ہے:

"لايحل قتل ما لايؤذي؛ ولذا قالوا: لم يحل قتل الكلب الأهلي إذا لم يؤذ، والأمر بقتل الكلاب منسوخ كما في الفتح أي إذا لم تضر."

(الدر المختار، كتاب الحج، باب الجنايات(2/ 570)،ط. دار الفكر، بيروت ، 1386هـ)

فقط، واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200841

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں