بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

کرسی پر رکوع کرنے کا طریقہ


سوال

 میں گزشتہ دو سال سے چیک کر رہا ہوں میری بیوی کرسی پر نماز پڑھتی ہے بوجہ گھٹنوں کی تکلیف ،  میں نے نشان دھی کی کہ تم رکوع کرنا بھول جاتی ہو،  مگر وہ نہیں مانتی اورنماز مجھ  سے چھپ کر پڑھنا شروع کر دیتی ہے ۔ جب وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھتی ہےتو رکوع میں تو جاتی ہے، مگر گھٹنوں سے ہاتھ  ہٹاکر کرسی پکڑ کے سجدے میں چلی جاتی ہے، میں کہتا ہوں رکوع سے سیدھی کھڑی  ہو،  پھر کرسی پر بیٹھ کر سجدہ کرو۔  برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں!

جواب

جو شخص بیماری کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قادر نہیں، یا کھڑے ہونے پر قادر ہے، لیکن زمین پر بیٹھ  کر سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہے، یا قیام و سجود کے ساتھ  نماز پڑھنے کی صورت میں بیماری میں اضافہ یا شفا ہونے میں تاخیر یا ناقابلِ برداشت درد کا غالب گمان ہو تو ان صورتوں میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ کسی قابلِ برداشت معمولی درد یا کسی موہوم تکلیف کی وجہ سے فرض نماز میں قیام کو ترک کردینا اور کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔

اسی طرح جو شخص فرض نماز میں مکمل قیام پر تو قادر نہیں، لیکن کچھ دیر کھڑا ہو سکتا ہے اور سجدہ بھی زمین پر کرسکتا ہے توایسے شخص کے لیے فرض اور واجب نماز میں اُتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے، اگر چہ کسی چیز کا سہارا لے کر کھڑا ہونا پڑے، اس کے بعد بقیہ نماز زمین پر بیٹھ کر پڑھنا چاہیے۔

اور اگر زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں تو ایسی صورت میں شروع ہی سے زمین یا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ اور اس صورت میں اس کی نماز اشاروں والی ہوتی ہے، اور اس کے لیے بیٹھنے کی کوئی خاص ہیئت متعین نہیں ہے، وہ جس طرح سہولت ہو بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھ سکتا ہے، چاہے زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھے یا کرسی پر بیٹھ کر، البتہ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے، لہذا جو لوگ زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرسکتے ہیں تو زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کریں، اور اگر زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے میں مشقت ہوتو وہ کرسی پر بیٹھ کر فرض نمازیں، وتر اور سنن سب پڑھ سکتے ہیں۔

اشارہ سے نماز پڑھنے والا شخص  بیٹھنے کی حالت میں معمول کے مطابق ہاتھ  باندھے، اور سجدہ میں رکوع کی بنسبت ذرا زیادہ جھکے، تشہد بھی معمول کے مطابق کرے، اور اگر زمین پر بیٹھنے کی صورت میں تشہد میں دو زانو ہو کر بیٹھنا مشکل ہوتو جس طرح سہولت ہو  مثلاً چار زانو (آلتی پالتی مار کر)، یا پاؤں پھیلا کر جس طرح سہولت ہو  بیٹھ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ جو شخص زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو اس کے لیے قیام پر قدرت ہونے کے باوجود قیام فرض نہیں ہے، لہٰذا ایسا شخص کرسی پر یا زمین پر نماز ادا کر رہاہو تو اس کے لیے دونوں صورتیں جائز ہیں: قیام کی حالت میں قیام کرے اور بقیہ نماز بیٹھ کر ادا کرے یا مکمل نماز  بیٹھ  کر بغیر قیام کے ادا کرے، البتہ دوسری صورت یعنی مکمل نماز بیٹھ کر ادا کرنا ایسے شخص کے لیے زیادہ بہتر ہے۔

مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں آپ اپنی اہلیہ کے لیے حکم معلوم کرسکتے ہیں، بہر حال اگر وہ قیام کرکے رکوع کھڑے ہو کر کرتی ہیں تو  ہاتھوں کو گھٹنوں کو لگانا  اور اس سے پھر  کھڑے ہوکر پھر سجدے میں جانا ضروری ہے، اور اگر عذر کی وجہ سے ان کے لیے یہ ممکن نہ ہو، اور سجدہ بھی وہ زمین پر نہیں کرسکتیں تو انہیں چاہیے کہ وہ پوری نماز کرسی پر ہی بیٹھ کر پڑھیں، چناں چہ رکوع میں کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھ  کر جھک جایا کریں، رکوع ہو جائے گا۔ اور پھر  رکوع سے اٹھ کر سیدھی بیٹھ جائیں، اس کے بعد  سجدے میں جائیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200265

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں