بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کفریہ الفاظ سے توبہ کا حکم


سوال

کسی بندہ سے سات ، آٹھ کفریہ  کلمات نکل گئے اور اس نے اس طرح توبہ کی  کہ یا اللّه آج تک جتنے بھی کفریہ کلمات  زبان سے نکلے ہیں  سب سے توبہ کر تا ہوں،  اور کلمہ طیبہ پڑلیا اور نمازیں پڑھیں اور  روزے رکھے نکاح بھی کیا،  اس طرح توبہ درست ہے؟ تجدید ایمان ہوگیایا نہیں؟ نکاح درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے  کہ کلمات کفر کہنے کی وجہ سے تجدید  ایمان ضروری ہے،اوراگرکلمات کفر کہنے  والا مرد شادی شدہ ہو تو تجدید نکاح بھی لازم ہے، اوراگرزیادہ کلمات کفر صادر ہوئے ہیں، تو اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ مجھ سے جتنے کلمات کفر صادر ہوئے ہیں، ان تمام کلمات سے توبہ کرتا ہوں، لہذا صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ شخص اگر واقعی توبہ کرچکا ہےاور شہادتین  کا اقرار کرچکا ہے تو اس کیتمام نمازیں  اور روزےدرست ہیں، اس کے بعد اگر تجدید نکاح کیا ہے تو وہ بھی درست ہے۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"وإسلامه أن يأتي بكلمة الشهادة، ويتبرأ عن الأديان كلها سوى الإسلام، وإن تبرأ عما انتقل إليه كفى كذا في المحيط."

(كتاب السير،باب التاسع في احكام المرتدين،ج2،ص253،ط:رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"أن ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح."

(كتاب الجهاد،باب المرتد،مطلب الاسلام يكون بالفعل كالصلاة بجماعة،ج4،ص230،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502101179

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں