بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پیپسی کمپنی میں ملازمت کا حکم


سوال

ہمارےیہاں پاکستان میں اسرائیل کی کمپنی پیپسی میں لوگ ملازمت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ پیپسی میں انویسٹ کر کے پیپسی کی ایجنسی لے کر سپلائی کا ایک قسم کاکاروبار  کرتے ہیں،تو کیا اسرائیل کے ساتھ ایکسپورٹ،ایمپورٹ کا کاروبار جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً پیپسی کمپنی کا مسلمانوں کے خلاف ظلم و تشدد میں یہودیوں کی اعانت کرنا تحقیق و دلیل سے ثابت ہوجائے تو اس کمپنی میں ملازمت کرنا،پیسے انویسٹ کرنااور ایجنسی لے کر سپلائی کرناجائز نہیں ہوگا،اور اگر یہ  بات ثابت نہ ہو تو  اس کا حکم عام کفار کے ساتھ معاملات کرنے کا ہے،جس کی تفصیل یہ ہے کہ کافرکے ساتھ ایسا معاملہ جس کی دینِ اسلام میں اجازت نہ ہویا پھر جس کام کے کرنے میں مسلمانوں کے لیے ذلت ہو،جائز نہیں،اس کے علاوہ دیگر معاملات جائز ہیں،لیکن یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ شریعت نے بلا ضرورتِ شدیدہ کفار کے ساتھ معاملات کو پسند نہیں کیا ہے،لہٰذا،ملازمت اور پیسے انویسٹ کرنے سے پہلے تحقیق کرلی جائے۔

تفسير القرطبي میں ہے:

"والتعاون على البر والتقوى يكون بوجوه،... وأن يكون المسلمون متظاهرين كاليد الواحدة "المؤمنون تتكافؤ دماؤهم ويسعى بذمتهم أدناهم وهم يد على من سواهم". ويجب الإعراض عن المتعدي وترك النصرة له ورده عما هو عليه. ثم نهى فقال. (ولا تعاونوا على الإثم والعدوان) وهو الحكم اللاحق عن الجرائم، وعن" العدوان" وهو ظلم الناس."

(ص:47،ج:6،سورۃ المائدۃ،ألآية:2،ط:دار الكتب المصرية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولا بأس ‌بحمل ‌الثياب ‌والمتاع والطعام، ونحو ذلك إليهم؛ لانعدام معنى الإمداد، والإعانة، وعلى ذلك جرت العادة من تجار الأعصار، أنهم يدخلون دار الحرب للتجارة من غير ظهور الرد والإنكار عليهم، إلا أن الترك أفضل؛ لأنهم يستخفون بالمسلمين، ويدعونهم إلى ما هم عليه، فكان الكف والإمساك عن الدخول من باب صيانة النفس عن الهوان، والدين عن الزوال، فكان أولى."

(ص:102،ج:7،كتاب السير،فصل في بيان ما يعترض من الأسباب المحرمة للقتال،ط:دار الكتب العلمية)

وفيه أيضا:

"وكذا ‌إسلام ‌البائع ليس بشرط لانعقاد البيع ولا لنفاذه ولا لصحته بالإجماع، فيجوز بيع الكافر وشراؤه."

(ص:135،ج:5،كتاب البيوع،فصل في شرائط ركن البيع،ط:دار الكتب العلمية)

وفیه أیضاً:

"الكفر لا ينافي أهلية التمليك ألا ترى: أنه يصح ‌بيع ‌الكافر، وهبته فكذا وصيته."

(ص:335،ج:7،كتاب الوصایا،فصل في شرائط ركن الوصية،ط:دار الکتب العلمیة)

شرح السير الكبير للسرخسي میں ہے:

"لا يستحب للمسلمين أن يدخلوا دار الحرب شيئا مما فيه منفعة أهل الحرب لأن ذلك يقويهم على عبادة غير الله تعالى فإن أدخلوا ذلك دارهم لم يمنعوا ما خلا الكراع والسلاح...ونعني بالسلاح ما يكون معدا للقتال به، وما يكون من جنس الحديد، فإن ذلك يقويهم على قتالهم المسلمين، وقد أمرنا بدفع قتالهم، فمن ضرورة ذلك كراهة الإشتغال بما يقويهم على القتال."

(ص:1567،باب ما يحل للمسلمين أن يدخلوه دار الحرب من التجارات،ط:الشرقية)

وفیه أیضاً:

"والحربي المستأمن في دارنا إذا أراد الرجوع إلى دار الحرب بشيء مما ذكرنا فإنه يمنع من ذلك لأنه من أهل تلك الدار وإنما يأتيهم ليقيم فيهم فيكون محاربا للمسلمين كغيره، فهو يتقوى بما يدخله من ذلك على قتال المسلمين، فلهذا منع من جميع ذلك."

(ص:1573،باب ما يحل للمسلمين أن يدخلوه دار الحرب من التجارات،ط:الشرقية)

الفتاوی الهنديةمیں ہے:

"لا بأس بأن يكون ‌بين ‌المسلم ‌والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه."

(ص:348،ج:5،كتاب الكراهية،الباب الخامس عشر في الكسب،ط:دار الفكر،بيروت)

 

جواہر الفقہ میں ہے:

1.’’شریعت نے کفار کے ساتھ معاملات کو اصل سے جائز رکھاہے...لیکن ساتھ ہی بلا ضرورتِ شدیدہ اس کو پسند نہیں کیا گیا ہے۔‘‘(183/2)

2.’’عباراتِ مذکورہ ہی سےاس کےجواز کے لیے چند شرائط مستفاد ہوتی ہیں کہ اگر وہ شرطیں پائی جائیں تو یہ معاملات جائز بلا کراہت ہیں ورنہ مکروہ و ناجائز۔ (1)بلاضرورت مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار و مشرکین کے ساتھ معاملات نہ کیے جائیں... (3) کفار و مشرکین کے ساتھ اس طرح معاملات نہ کیے جائیں جس سے مسلمانوں کی ذلت ظاہر ہو۔‘‘(186/2)

3.’’روایاتِ حدیث و فقہ کے دیکھنے اور حالاتِ موجودہ پر نظر ڈالنے سےثابت ہوا کہ اس وقت باوجود اباحت فی نفسہا کے مسلمانوں کے لیےاپنی دکانیں چھوڑ کر غیر مسلموں سے سامان خریدناہرگز جائز نہیں۔‘‘(2/ 193)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144409101352

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں