بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کفر سے توبہ کرتے وقت کفر کو ذکر کرنا


سوال

جس کفر سے توبہ کرنی ہو توبہ میں کفر کا ذکر کرنا ضروری ہے؟ اگر اس طرح توبہ کر لے یا اللہ جو کفر صادر ہوا توبہ کرتا ہوں  اور کلمہ پڑھ لے تو  تجدیدِ ایمان ہو جائے گا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں    ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا انکار کیا ہو،  تو اس سے تو بہ کرنا ضروری ہے، تاہم اگر کئی کفریہ کلمات صادر ہوئے ہوں اور تمام یاد بھی نہ ہوں تو یہ کہہ دینا کافی ہے کہ تمام کفریہ کلمات سے توبہ کرتا ہوں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ثم اعلم أنه يؤخذ من مسألة العيسوي أن من كان كفره بإنكار أمر ضروري كحرمة الخمر مثلا أنه لا بد من تبرئه مما كان يعتقده لأنه كان يقر بالشهادتين معه فلا بد من تبرئه منه كما صرح به الشافعية وهو ظاهر."

(كتاب الجهاد ،باب المرتدمبحث فى اشتراط التبرى مع الاتيان بالشهادتين،ج4،ص228ط:سعيد)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"وإسلامه أن يأتي بكلمة الشهادة، ويتبرأ عن الأديان كلها سوى الإسلام، وإن تبرأ عما انتقل إليه كفى كذا في المحيط"

(كتاب السير،باب التاسع في احكام المرتدين،ج2،ص253،ط:رشيدية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144507100935

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں