بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

قرآن میں ایسے مقامات جہاں غلطی سے کفر کا اندیشہ ہو


سوال

قرآنِ مجید میں ایسے پانچ مقامات کی نشان دہی کریں، جہاں اعراب کی غلطی سے کفر و شرک کا خطرہ لاحق ہے!

جواب

تاج کمپنی کے مطبوعہ قرآنِ  کریم  کے اخیر میں تقریباً بیس مقامات کی نشان دہی کی گئی ہے جہاں زبر زیر کی غلطی سے کفر کا اندیشہ ہے،وہاں ملاحظہ فرمالیں،البتہ اس سے متعلق یہ اصول یاد رکھنے کا ہے کہ : 

اگر ان غلطیوں کے ارتکاب کے وقت پڑھنے والے کو اس کے کفریہ معنی معلوم ہوں اور پھر بھی وہ پڑھے تو ایسی صورت میں وہ کافر ہوجائے گا،  اور اگر پڑھنے والے کو اس کے معنی تو نہ معلوم ہوں،  لیکن یہ معلوم ہو کہ ایسی غلطی سے کفریہ معنی والے الفاظ ادا ہوں گے،  پھر بھی وہ کافر ہوجائے گا۔  اور اگر پڑھنے والے کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ایسی غلطی سے کفریہ معنی والے الفاظ کا تلفظ ہوگا تو اس کے کفر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا، تاہم ہرمسلمان کو قرآنِ مجید کا صحیح تلفظ سیکھنا ضروری ہے، تاکہ نادانستگی میں بھی ایسی فاش غلطی نہ ہو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 224):

"(قوله: والطوع) أي الاختيار احترازاً عن الإكراه، ودخل فيه الهازل، كما مر؛ لأنه يعد مستخفاً لتعمده التلفظ به، وإن لم يقصد معناه، وفي البحر عن الجامع الأصغر: إذا أطلق الرجل كلمة الكفر عمداً، لكنه لم يعتقد الكفر، قال بعض أصحابنا: لايكفر؛ لأن الكفر يتعلق بالضمير، ولم يعقد الضمير على الكفر، وقال بعضهم: يكفر، وهو الصحيح عندي؛ لأنه استخف بدينه. اهـ. ثم قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلاً أو لاعباً كفر عند الكل، ولا اعتبار باعتقاده، كما صرح به في الخانية. ومن تكلم بها مخطئاً أو مكرهاً لايكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامداً عالماً كفر عند الكل، ومن تكلم بها اختياراً جاهلاً بأنها كفر، ففيه اختلاف".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5 / 135):

"ومن تكلم بها اختياراً جاهلاً بأنها كفر ففيه اختلاف، والذي تحرر أنه لايفتى بتكفير مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة، فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لايفتى بالتكفير بها، ولقد ألزمت نفسي أن لاأفتي بشيء منها".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200628

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں