بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کسی کو اس کے پچھلے گناہوں پر عار دلانا


سوال

شادی سے پانچ سال پہلے میں نے پروڈکشن ہاؤس میں کام کیا ،اس جاب میں میرا کام انتظامی امور سنبھالنے کاتھا ، نامحرموں کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں اور اپنی ان غلطیوں کی معافی میں اللہ تعالیٰ سے مانگ چکی ہوں اور نہ ہی دوبارہ ایسا کیا، اور یہ سب کچھ میری شادی سے پانچ چھ سال پہلے کی بات ہے ،مگر میرے شوہر مجھے شادی کے بعد سے پچھلے چار سال سے بے غیرت اور بے شرم ہونے کا طعنہ دیتے ہیں ، مجھے ان کے طعنے بہت زیادہ تکلیف دیتے ہیں، میں نماز کی پابندی کی کوشش کرتی ہوں، لیکن شوہر کو کیسے یقین دلاؤں کہ میں اللہ تعالیٰ اور شوہر کے ساتھ مخلص ہوں،میرا اللہ تعالیٰ پر توکل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کو اپنے گناہوں کا اعتراف بھی ہے ،اور ان سے توبہ بھی کرلی ہے تو اب سائلہ کے شوہر کا سائلہ کو ان گناہوں پر عار دلانا اور بے غیرت و بےشرم کہنا شرعاً جائز نہیں ، شریعت ِ مطہرہ میں  کسی گناہ گار کو اس کے گناہوں پر  عار دلانے پر سخت وعید وارد ہوئی  ہے، چاہے توبہ سےپہلے عار دلائی جائے یا توبہ کے بعد عار دلائی جائے،چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ جو شخص  اپنے کسی مسلمان بھائی کو اس کے کسی گناہ پر عار دلائے تو اس کو اس وقت تک موت نہیں آئے گی جب تک وہ خود اس عمل میں مبتلا نہ ہو۔

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کو چاہیےکہ وہ اپنے شوہر کو نہایت ادب کے ساتھ اس عمل کا وبال بتادیں ، اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے ہدایت کی دعا بھی کیا کریں ،اگر ان کو ہدایت مل گئی اور وہ اس گناہ سے باز  آگئے  ،تو ایک تو وہ خود سائلہ سےاپنے  اس عملِ بد  کی معافی مانگ لیں گے اور دوسرے  سائلہ کو   اس کا اجربھی  ملے گا، اور اگر خدانخواستہ شوہر اپنے اس عمل ِ بد سے باز نہ آئیں ،تو آپ کو چاہیے کہ اس  کی ان باتوں پر صبر کریں،اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر دے گا ،اور اللہ تعالیٰ خود اس سے خلاصی کی کوئی سبیل نکال دیں گے۔

نیز یہ بات کہ آپ اپنے شوہر کو کیسے یہ یقین دلائیں کہ آپ اس کے ساتھ مخلص ہیں ،تو  آپ کو چاہیے کہ ایک   تو اپنی طرف سے ان کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی خدمت کرنے کی پوری کوشش کریں ،اور دوسرے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے شوہر کے دل سے یہ شکوک و شبہات نکال دیں، اور شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرح کے شکوک و شبہات کو اپنے دل سے نکال دیں اور اپنی گھر والی کے ساتھ حسن ِ سلوک سے پیش آئیں اور بدگمانی سے پرہیز کریں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 "  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ".(الحجرات:12)

ترجمہ : "اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچا کرو کیوں کہ بعضے گمان گناہ ہوتے ہیں۔" (بیان القرآن)

 جامع الترمذی  میں  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے:

"حدثنا أحمد بن منيع، قال: حدثنا محمد بن الحسن بن أبي يزيد الهمداني، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن معاذ بن جبل، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌من ‌عير ‌أخاه بذنب لم يمت حتى يعمله ،قال أحمد: قالوا: من ذنب قد تاب منه".

(أبواب الزهد عن رسول الله صلي الله عليه وسلم، باب، 77/2 ، ط: قديمي كتب خانه)

وفيه أيضا:

"حدثنا إبراهيم بن سعيد الجوهري، قال: حدثنا أبو أسامة، قال: حدثنا بريد بن عبد الله، عن أبي بردة، عن أبي موسى، قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أي المسلمين أفضل؟ قال: من سلم المسلمون من لسانه ويده."

(أبواب الزهد عن رسول الله صلي الله عليه وسلم، باب، 77/2 ، ط: قديمي كتب خانه)

وفيه أيضا:

"حدثنا قتيبة قال: حدثنا الليث، عن يزيد بن أبي حبيب، عن سعد بن سنان، عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا أراد الله بعبده الخير عجل له العقوبة في الدنيا، وإذا أراد الله بعبده الشر أمسك عنه بذنبه حتى يوافي به يوم القيامة."

(أبواب الزهد عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم،باب ما جآء في الصبر علي البلاء ، 65/2 ،ط: قديمي كتب خانه)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144308101964

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں