بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کسی کا سودی قرضہ اتارنے کا حکم


سوال

 میرے بھائی نے قرض لیا ہوا ہے،اب وہ ادا نہیں کر سکتا اس کا قرض میں ادا کرنا چاہتا ہوں اس شرط پر کہ دوبارہ وہ سود کا قرض نہ لے اور اس نے بھی توبہ کر لی ہے ۔اب  قرضہ ادا کرنے میں کیا میں بھی اس گناہ میں شریک ہوں گا یا  مجھ پر کوئی گناہ نہیں؟

جواب

 سود کا انجام تباہی اور بربادی ہی ہے۔ سودی معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جائے کہ اس گناہ کا اثر صرف براہِ راست سودی معاملہ کرنے والے دو اشخاص تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے متعلقہ افراد (جو کسی بھی طرح اس سودی معاملہ میں معاون بنتے ہیں، مثلاً: لکھنے والا، گواہ، وغیرہ) وہ سب اللہ کی لعنت اور اس کی رحمت سے دوری کے مستحق بن جاتے ہیں۔     خلاصہ یہ کہ سودی معاملہ اور سودی لین دین قرآن وحدیث کی رو سے حرام ہے۔ نیز اسلام میں جس طرح سود لینا حرام وناجائز ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام وناجائز ہے اور احادیثِ  مبارکہ میں دونوں پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، سودی معاملہ دنیا اور آخرت  کی تباہی اور بربادی، ذلت اور رسوائی کا سبب ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں، عموماً جو لوگ سود پر قرض لے کر کاروبار کرتے ہیں، ساری زندگی سود سے پیچھا چھڑانے میں گزرجاتی ہے، بلکہ بکثرت ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ سرمایہ مع اضافہ سب سے ہاتھ دھونا پڑجاتاہے۔ 

لہذاصورتِ  مسئولہ میں مذکورہ شخص (سائل كےبھائي )کا  سودی معاہدہ کرنا اور سود کی بنیاد پر قرضہ لینا جائز نہیں تھا،  اب ایسے معاملہ کو جلد از جلد ختم کرنا واجب ہے، اور صرف اصل رقم واپس کرنا لازم ہے ، اس کے اوپر سود دینا جائز نہیں ہے؛  لہذا اگر سود سے جان چھڑواسکتاهے تو بہتر،  ورنہ مجبوراً جان چھڑانے کی جو بھی صورت ہو(سائل یاسائل کابھائی) اس کو اختیار کرکے جان چھڑالے ؛تاکہ سودی معاملہ کی مدت میں اضافہ نہ ہو،نیز سائل کابھائی  اصل قرض  کی رقم کی ادائیگی  ميں معاونت  كرسكتاهے۔

 ارشاد باری تعالی ہے:

"وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ  وَاتَّقُوا اللّٰه اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ  "[المائدة:الآية :2]

ترجمہ:"اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ تعالی سے ڈرا کرو بلا شبہ اللہ تعالٰ سخت سزا دینے والا ہے۔"(بیان القرآن)

ارشاد باری تعالی ہے:

"﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا الله َ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾."[البقرة :278تا280]

ترجمہ:" اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے۔ اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو  زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔ "(بیان القرآن ) 

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء."

( كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا ومؤكله،3/ 1219 ، رقم الحديث:1598، ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)

ترجمہ:"حضرت جابر رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں۔"

اعلاء السنن میں ہے:

"وکل قرض شرط فیه الزیادۃ فهو حرام بلا خلاف،قال ابن المنذر:أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادۃً أو هدیة، فأسلف علی ذلک أن أخذ الزیادۃ علی ذلک ربا،قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم:کل قرض جر منفعة فهوربا."

(کتاب الحوالة،باب کل قرض جر منفعة فهو ربا،14/ 513 ط: ادارۃ القرآن کراتشی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405100776

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں