بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو القعدة 1443ھ 30 جون 2022 ء

دارالافتاء

 

کسی ایک امام کے مذہب پر عمل (تقلید) کرنا کیوں واجب ہے؟


سوال

کسی ایک مذہب کو ماننا کیوں واجب ہے؟ یعنی کسی ایک امام کی تقلید کیوں لازم ہے؟ اس کو دلیل سے معلوم کرانے  کے لیے آپ حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے!

جواب

واضح رہے کہ جو شخص مسائل کے  استنباط کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو  اس کے لیے کسی ایک امام کے مذہب پر عمل (یعنی اس کا تقلید) کرنا واجب اور  تمام مسائل میں اسی امام کے مذہب کے مفتی بہ مسائل کا اتباع کرنالازم ہے، وجہ اس کے  یہ ہے کہ بیک وقت چاروں کی تقلید تو ہو نہیں سکتی، کیوں کہ اکثر  (فروعی) مسائل میں چاروں ائمہ کرام کا آپس میں اختلاف ہے اور اختلاف کی صورت میں  بیک وقت چاروں کے قول   پر عمل کرنا ناممکن ہے، اس لیے ایک کی تقلید اور اقتدا  لازم ہے،  نیز اگر عام آدمی  (جس کے پاس مسائل کے استبناط کی صلاحیت نہ ہو)  کو یہ حق دیا جائے کہ جس مسئلہ میں جس امام کا قول اچھا لگے اس پر عمل کرے، تو یہ دین پر عمل کے  بجائے  اپنی خواہشِ نفس پرعمل کرنے والا بن جائےگا اور جس مسئلہ میں جو قول اس کے خواہش کے موافق ہو اس پر عمل کرنے لگ جائے گا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ   دین دین نہیں  رہے گا،  بلکہ ایک کھلونا بن جائے گا۔

اس کو آسان مثال سے یوں سمجھےکہ ایک شخص نے وضو کیا پھر وضو کے بعد اس کے جسم سے خون نکلا،کسی نے اسے کہا کہ آپ کا وضو ٹوٹ گیا، تو اس نے کہا کہ میں اس مسئلہ میں  امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب پر عمل کرتا ہوں کیوں کہ  ان کے نزدیک خون نکلنے سے  وضو نہیں ٹوٹتا، پھر کچھ  وقت بعد اس نے اپنی بیوی کو ہاتھ لگایا، کسی نے اسے کہا کہ بیوی کو ہاتھ لگانے سے امام شافعی کے ہاں وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو اس نے جو اب دیا کہ میں اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب پر عمل کرتا ہوں، کیوں کہ ان کے ہاں اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، اب اگر یہ شخص اسی وضو سے نماز پڑھے گا تو دونوں اماموں کے نزدیک اس کی نماز نہیں ہوئی گی، حالانکہ یہ اپنے خواہشات پر عمل کرتے ہوئے یہی سمجھےگاکہ اس  کی نماز ہوگئی ہے،  اسی طرح دین ایک کھلونا بن جائے گا(اعاذنا اللہ منہ) جہاں جو مذہب خواہش کے مطابق ہوگا اسی پر عمل کرتا رہے گا، تو یہ اللہ کی بندگی نہیں بلکہ اتباع ہوی ہے۔

اسی طرح صحابہ کرام میں بھی بعض صحابہ کرام کے قول پر عمل کیاجاتھا تھا جیسا کہ بخاری شریف کے حدیث کا مفہوم ہے کہ  اہل مدینہ نےعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے  اس عورت کے گھر جانے کے متعلق  پوچھا جس کو طوافِ زیارت کے بعد حیض آجائے، کیا  وہ طوافِ وداع کیے بغیر گھر جاسکتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ جاسکتی ہے، تو اہل مدینہ نے کہا کہ ہم آپ کے فتوی پر عمل کرکے زید ابن ثابت رضی اللہ عنہما کے فتوی کو نہیں چھوڑسکتے، معلوم ہوا کہ  مدینے والے صحابہ بھی حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول و فتویٰ پر عمل کرتے تھے۔

 اسی طرح بڑے بڑے نامور محدثین اور فقہاء بھی ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کے مذہب پر عمل کرتے تھے، اور سی میں عافیت سمجھتے تھے،  جیسا کہ: امام ابویوسف، امام محمد، امام طحاوی، امام شمس الائمہ حلوانی، امام فخر الاسلام بزدوی، امام ابوالحسن کرخی، وغیرہ  رحمہم اللہ  بڑے بڑے محدث اور فقیہ  حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مقلد اور ان کے مذہب پر عمل کرنے والے  تھے۔

حضرت امام ترمذی، حافط ابن حجر عسقلانی وغیرہ رحمہم اللہ  حضرت امام شافعیؒ کے مقلد اور ماننے والے تھے، اسی طرح امام ابوداؤد اور امام نسائی  حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ  کے مذہب پر عمل کرنے اور ماننے والےتھے،  حافظ ابن عبدالبر مالکی رحمہ اللہ   بڑے فقیہ اور محدث ہونے کے باوجودتھے حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے مقلد تھے۔

الغرض جب اتنے بڑے بڑے فقہاء اور محدثین کسی ایک امام کی تقلید کرتے ہوئے اپنے آپ کو ان کے تابع سمجھتے ہیں، تو  ہم کون ہے کہ اپنے آپ کو ان کی تقلید سےبالاتر اور آزاد سمجھ کر خواہش نفس پر عمل کرکے اپنے آخرت کو برباد کرے، یہی وجہ ہے کہ کسی ایک امام کی تقلید اور اس کے مذہب کو ماننا اور اس پر عمل پیر ہونا لازم اور ضروری ہے۔

صحيح بخارى ميں ہے:

"عن ‌عكرمة : «أن أهل المدينة سألوا ابن عباس رضي الله عنهما عن امرأة طافت ثم حاضت، قال لهم: تنفر، قالوا: ‌لا ‌نأخذ ‌بقولك وندع قول زيد، قال: إذا قدمتم المدينة فسلوا، فقدموا المدينة فسألوا، فكان فيمن سألوا أم سليم، فذكرت حديث صفية» رواه خالد وقتادة عن عكرمة."

(كتاب الحج، باب اذا حاضت المرءة بعد ماافاضت، ج:2، ص:180، رقم:1758، ط:دار طوق النجاة)

فیض القدیر میں ہے:

"ويجب علينا أن نعتقد أن الأئمة الأربعة والسفيانين والأوزاعي وداود الظاهري وإسحاق بن راهويه وسائر الأئمة على هدى ولا التفات لمن تكلم فيهم بما هم بريئون منه والصحيح وفاقا للجمهور أن المصيب في الفروع واحد ولله تعالى فيما حكم عليه أمارة وأن المجتهد كلف بإصابته وأن مخطئه لا يأثم بل يؤجر فمن أصاب فله أجران ومن أخطأ فأجر نعم إن قصر المجتهد أثم اتفاقا وعلى غير المجتهد أن ‌يقلد ‌مذهبا معينا."

(حرف الهمزۃ، ج:1، ص:209، رقم:288، المکتبة التجاریة)

حجۃ اللہ البالغہ میں ہے:

"إن هذه المذاهب الأربعة المدونة المحررۃ قد اجتمعت الأمة، أو من یعتد به منها علی جواز تقلیدها إلی یومنا هذا، وفي ذلک من المصالح مالا یخفی، لا سیما في هذہ الأیام التي قصرت فيها الهمم جدا واشربت النفوس الهوی، وأعجب کل ذی رأي برأيه."

(حجة اللہ البالغة، ج:1، ص:154، ط: مکتبه حجاز)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101607

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں