بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کس کے ساتھ قربانی کرنا ناجائز ہے؟


سوال

ایک جانورمیں کس کے ساتھ قربانی کرنا نا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بڑے جانور(گائے،بیل اونٹ وغیرہ) میں زیادہ سے زیادہ سات افراد قربانی میں شرکت کرسکتےہیں ،البتہ ایک جانور میں شرکت کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہےکہ شرکاء میں کوئی کافر،فاسد العقیدہ ، کسی بھی قسم کی حرام کمائی والا شخص،جس کی آمدن مشتبہ ہو،ایسا شخص جس کی نیت صرف گوشت کے حصول کی ہو، موجود نہ ہو،لہذا  اگر  ایک جانور کے شرکاء میں سے کوئی ایک بھی مذکورہ افراد میں سے ہو،تو ایسی  صورت میں کسی ایک شریک کی بھی قربانی درست نہیں ہوگی،نیز اگر ایک جانور میں سارے شرکاء نابالغ بچے ہوں ،جن پر قربانی واجب نہیں تو ایسی صورت میں ان کی قربانی درست نہیں ہوگی۔

الجوہرۃ النیرہ میں ہے:

"قوله: (أو يذبح بدنة أو بقرة عن سبعة) ، والبدنة، والبقرة تجزئ كل واحدة منهما عن سبعة إذا كانوا كلهم يريدون بها وجه الله تعالى."

(كتاب الأضحية،ج:2،ص:187،ط :المطبعة الخيرية)

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"يجب أن يعلم أن الشاة لا تجزئ إلا عن واحد، وإن كانت عظيمة، والبقر والبعير يجزي عن سبعة إذا كانوا يريدون به وجه الله تعالى، والتقدير بالسبع يمنع الزيادة، ولا يمنع النقصان، كذا في الخلاصة.لا يشارك المضحي فيما يحتمل الشركة من لا يريد القربة رأسا، فإن شارك لم يجز عن الأضحية، وكذا هذا في سائر القرب إذا شارك المتقرب من لا يريد القربة لم تجز عن القربة، ولو أرادوا القربة - الأضحية أو غيرها من القرب - أجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجب على البعض دون البعض، وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي الإحصار وبعضهم كفارة عن شيء أصابه في إحرامه وبعضهم هدي التطوع وبعضهم دم المتعة أو القران وهذا قول أصحابنا الثلاثة رحمهم الله تعالى، وكذلك إن أراد بعضهم العقيقة عن ولد ولد له من قبل، كذا ذكر محمد - رحمه الله تعالى - في نوادر الضحايا، ولم يذكر ما إذا أراد أحدهم الوليمة وهي ضيافة التزويج وينبغي أن يجوز، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه كره الاشتراك عند اختلاف الجهة، وروي عنه أنه قال: لو كان هذا من نوع واحد لكان أحب إلي، وهكذا قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى -، وإن كان كل واحد منهم صبيا أو كان شريك السبع من يريد اللحم أو كان نصرانيا ونحو ذلك لا يجوز للآخرين أيضا كذا في السراجية."

(الباب الثامن فيما يتعلق بالشركة في الضحايا: ج:5، ص: 304، ط: دار الفكر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144411102551

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں