بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کریڈٹ کارڈ کے معاہدے پر اس نیت سے سائن کرنا کہ وقتِ مقررہ میں رقم ادا کرونگا


سوال

کریڈٹ کارڈ سے متعلق آپ کی ویب سائٹ پر کافی سارے جوابات  دیکھےجن میں استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے،اور اس کی وجہ چونکہ معاہدہ میں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اگر مقررہ تاریخ گذر چکی ہو تو ہم سود بھی جمع کرواینگے، اس کے برعکس دارالعلوم دیوبند انڈیا کی سائٹ پر میں نے کئی جوابات  پڑھےاس میں ایک آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں ، آپ کے جواب کا منتطر رہونگا، دارالعلوم بیوبند کا فتویٰ درج ذیل ہے۔

https://darulifta-deoband.com/home/ur/interest-insurance/27209 جواب نمبر: 27209 بسم الله الرحمن الرحيم فتوی(د): 1781=1338-11/1431 کریڈٹ کارڈ بنواتے وقت انٹریسٹ دینے کا جو آپشن تسلیم کیا جاتا ہے، اس کے فارم پر دستخط کرتے وقت اگر غالب گمان یہ ہو کہ جاری کردہ بلوں کی قیمت مقررہ مدت کے اندر ادا کردی جائے گی اور عقد میں شرط پر دستخط کرنا ایک فرضی صورت ہو تو پھر کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز ہوگا،  اور اس شرط پر دستخط کرنے کی گنجائش بھی ہوگی، شرط تو شریعت کی رو سے باطل ہوجائے گی اور عقد صحیح ہوجائے گا، من اشترط شرطًا لیس في کتاب اللہ فہو باطل وإن کان مائة شرط․ (مسلم شریف: ۱/۴۹۴) واللہ تعالیٰ اعلم.دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

جواب

واضح رہے کہ    کسی معاملے کے حلال وحرام ہونے کا مدار درحقیقت وہ معاہدہ ہوتا ہے جو فریقین کے درمیان طے پاتا ہے، کریڈٹ کارڈ لینے والا کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والے اداروں کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں لی جانے والی رقم واپس نہ کر سکا تو ایک متعین شرح کے ساتھ جرمانہ کے نام پر سود ادا کروں گا، جس طرح سود کا لینا حرام ہے اسی طرح اس کا معاہدہ کرنا بھی شرعا ناجائز اور حرام ہے، صورتِ مسئولہ میں اگر ایک   سال کے اندر ہی قرض ادا کردیا جائے  تب بھی گوسود دینے کا گناہ تو نہیں آئے گا، لیکن سودی معاہدے کی صورت میں سودی  معاملےپر  رضامندی کا اظہار کرنے کا گناہ ضرور آئے گا۔ ہمارے نزدیک مقررہ وقت پر قرض واپس کرنے کا غالب گمان ہونے کے باوجود اس ممکنہ سودی معاہدہ پر رضامندی تو بہرحال موجود ہے اور یہ بھی شرعاً  ناجائز ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

{یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَابَقِیَ مِنَ الرِّبوٰ إِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ، فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه}

ترجمہ:…’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑدو، اگر تم ایمان والے ہو ، پھر اگر تم اس پر عمل نہیں کروگے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے‘‘۔[البقرۃ:۲۷۸،۲۷۹-بیان القرآن]

عمدۃ القاری میں ہے:

"إن آيات الربا التي في آخر سورة البقرة مبينة لأحكامه وذامة لآكليه، فإن قلت: ليس في الحديث شيء يدل على كاتب الربا وشاهده؟ قلت: لما كانا معاونين على الأكل صارا كأنهما قائلان أيضا: إنما البيع مثل الربا، أو كانا راضيين بفعله، ‌والرضى ‌بالحرام ‌حرام."

(كتاب البيوع، باب آكل الربا وشاهده وكاتبه، ج:11، ص:200، ط:دار إحياء التراث العربي)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الحلال بين والحرام بين ‌وبينهما ‌مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهاب استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه ألا وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله محارمه ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله ألا وهي القلب»."

(كتاب البيوع ، باب الكسب وطلب الحلال، ‌‌الفصل الأول، ج:2، ص:843، ط:المكتب الإسلامي)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:‌‌

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌إذا ‌أقرض ‌أحدكم ‌قرضا فأهدي إليه أو حمله على الدابة فلا يركبه ولا يقبلها إلا أن يكون جرى بينه وبينه قبل ذلك» . ..(قبل ذلك) أي الإقراض لما ورد " كل قرض جر نفعا فهو ربا ". قال مالك: لا تقبل هدية المديون ما لم يكن مثلها قبل أو حدث موجب لها."

(كتاب البيوع، باب الربا، الفصل الثالث، ج:6، ص:69، ط:مكتبة امداديه)

وفيه ايضاً:

"(عن جابر قال: «لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - آكل الربا» ) ، أي: آخذه وإن لم يأكل، وإنما خص بالأكل لأنه أعظم أنواع الانتفاع كما قال - تعالى: {إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما} [النساء: 10] (ومؤكله) : بهمزة ويبدل أي: معطيه لمن يأخذه، وإن لم يأكل منه نظرا إلى أن الأكل هو الأغلب أو الأعظم كما تقدم، قال الخطابي: سوى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بين آكل الربا وموكله، إذ كل لا يتوصل إلى أكله إلا بمعاونته ومشاركته إياه، فهما شريكان في الإثم كما كانا شريكين في الفعل، وإن كان أحدهما مغتبطا بفعله لم يستفضله من البيع، والآخر منهضما لما يلحقه من النقص، ولله عز وجل حدود فلا تتجاوز وقت الوجود من الربح والعدم وعند العسر واليسر، والضرورة لا تلحقه بوجه في أن يوكله الربا، لأنه قد يجد السبيل إلى أن يتوصل إلى حاجة بوجه من وجوه المعاملة والمبايعة ونحوها قال الطيبي - رحمه الله: لعل هذا الاضطرار يلحق بموكل فينبغي أن يحترز عن صريح الربا فيثبت بوجه من وجوه المبايعة لقوله - تعالى: {وأحل الله البيع وحرم الربا} [البقرة: 275] لكن مع وجل وخوف شديد عسى الله أن يتجاوز عنه ولا كذلك الآكل (وكاتبه وشاهديه) : قال النووي: فيه تصريح بتحريم كتابة المترابيين والشهادة عليهما وبتحريم الإعانة على الباطل (وقال) ، أي: النبي - صلى الله عليه وسلم - (هم سواء) ، أي: في أصل الإثم، وإن كانوا مختلفين في قدره (رواه مسلم) وأخرجه هو أيضا وأبو داود والترمذي وابن ماجه من حديث ابن مسعود. ولم يذكر مسلم عنه سوى " «آكل الربا وموكله» " وروى الطبراني عنه ولفظه: " «لعن الله الربا وآكله وموكله وكاتبه وشاهده وهم يعلمون»."

(كتاب البيوع، باب الربا، الفصل الأول، ج:6، ص:59، ط:مكتبة امداديه)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144411101678

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں