بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

کون سے گاؤں میں جمعہ پڑھنا جائز ہے؟


سوال

میرا تعلق کلی شاگی شنغری ضلع پشین تحصیل حرمزی سے ہے،ہمارے گاؤں کی کل آبادی پانچ ہزار ہےجس میں بالغ مردوں کی تعداد اٹھارہ سو ہے،کل دکانیں جو متصل ہیں اور کلی  شاگی شنغری کے مین روڈ پر واقع ہیں اس کی تعداد100 ہے،اس کے علاوہ غیرمتصل 27 دکانیں ہیں،پانچ مسجدیں اور چارمدرسے ہیں،واٹر سپلائی کے تین بڑے اسکیم ہیں،حمام  ٹیلرر، پلمبرز،مستری،الیکٹریشن وغیرہ سب موجود ہیں،اس کے علاوہ اسکولیں ہوٹل،کلینک،میڈیکل اسٹور،چارہ ڈپو،زرعی ادویات ،حیوانات ڈاکٹر وغیرہ سب موجود ہیں۔کورٹ کچہری،تھانہ ،گاؤں کے اندر نہیں بلکہ دو تین گاؤں آگے ہیں ،اسی طرح بڑا ہسپتال بھی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے کلینک ہیں۔

میں اپنے گاؤں والوں کی طرف سے یہ مسئلہ  پیش کر رہاہوں کہ ہمارے گاؤں میں جمعہ پڑھنا جائز ہے کہ نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ جمعہ کے لیے شہر،فناءِ  شہر، قصبہ ،بڑا   گاؤں ہونا شرط ہے ،اور بڑا گاؤں وہ ہے جس کی آبادی  ڈھائی تین ہزار تک ہو اور اس کے ساتھ  تمام تر  ضروریات زندگی بسہولت ہمیشہ ملتی ہوں ۔

صورتِ  مسئولہ میں  مذکورہ گاؤں (شاگی شنغری)  میں مذکورہ بالا شرائط پائی جاری ہے اور آبادی بھی تقریبًا  5000 ہے لہذا مذکورہ گاؤں والوں پر  جمعہ پڑھنا  فرض ہے۔

تنویر الابصار میں ہے:

"و یشترط لصحتها المصر، و هو ما لایسع أکبر مساجده أهله المکلّفین بها أو فناءه و هو ما اتّصل به  لأجل مصالحه."

(رد المحتار، کتاب الصلوۃ، باب الجمعة، 2/138 ط: سعید)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"و الحد الصحيح ما اختاره صاحب الهداية أنه الذي له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وتزييف صدر الشريعة له عند اعتذاره عن صاحب الوقاية حيث اختار الحد المتقدم بظهور التواني في الأحكام مزيف بأن المراد القدرة على إقامتها على ما صرح به في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته و علمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح اهـإلا أن صاحب الهداية ترك ذكر السكك والرساتيق لأن الغالب أن الأمير والقاضي الذي شأنه القدرة على تنفيذ الأحكام وإقامة الحدود لا يكون إلا في بلد كذلك. اهـ"

(رد المحتار کتاب الصلوۃ  باب الجمعۃ 2/138 ط:سعید)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

"ڈھائی ہزار کی آبادی میں جمعہ جائز ہے یا نہیں؟

(سوال ۲۵۶۸) موضع راکھیڑہ میں مسلمانوں کی آبادی ڈھائی ہزار کی ہے ،چار مسجدیں ہیں اور بزازوں و عطاروں کی بہت  دوکانیں ہیں اور ہمیشہ سے جمعہ ہوتا ہے اس گاؤں میں جمعہ جائز ہے یا نہیں؟

(الجواب )  ظاہرا وہ بڑا گاؤں ہے اور بڑے  قریہ میں جمعہ عند الحنفیہ واجب و ادا ہوتا ہے۔کما في الشامي: و تقع فرضًا في القصبات و القری الکبیرۃ ... الخ"

(كتاب الجمعہ 5/125 ط:دار الاشاعت)

"جب آبادی تین ہزار ہو تو جمعہ درست ہے

"(سوال۲۳۸۲) موضع سو جڑو وضلع مظفر نگر میں تقریباً تین ہزار مرد م شماری یا کچھ کم ہے اور بازار اس موضع میں نہیں ہے اور کوئی سود ا  وغیرہ کپڑا یا غلہ یا دوا بھی نہیں ملتی اور موضع کو شہر سے فصل کوس سوا کوس کا ہے ایسے دیہات میں جمعہ جائز ہے یا نہیں ؟

(الجواب)  شامی میں تصریح  کی ہے کہ قصبہ او ربڑے قریہ میں جمعہ صحیح ہے عبارت اس کی یہ ہے:

(و تقع فرضاً في القصبات و القری الکبیرۃ التي فیھا أسواق إلی أن قال: و فیما ذکرنا إشارۃ إلی أنھا لاتجوز في الصغیرۃ ... الخپس قریہ مذکورہ بظاہر قریہ کبیرہ )ہے کہ آبادی اس کی تین ہزا ر کے قریب ہے ، لہذا جمعہ پڑھنا اس میں واجب ہے اور صحیح ہے ۔ فقط۔"

 ) کتاب الجمعۃ 5/62 ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100886

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں