بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1443ھ 27 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

کوئی عورت 70 کلومیٹر اکیلی سفر کر سکتی ہے؟


سوال

کوئی عورت 70 کلومیٹر اکیلی سفر کر سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ عورت کے لیے   بغیر محرم کے  سفرِ شرعی یا اس سے زائد مسافت طے  کرنا جائز نہیں ہے،  حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی مرد کسی عورت سے تنہائی میں نہ ملے اور کوئی عورت سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو، تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ میرا نام فلاں فلاں غزوے (جہادی لشکر) میں لکھا گیا ہے، اور میری بیوی حج کے لیے نکل چکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ (بخاری ومسلم، بحوالہ مشکاۃ)

نیز حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے ایک رات کا سفر کرنا حلال نہیں ہے  مگر یہ کہ اُس کے ساتھ اُس کا محرم ہو۔

اب سفرِ شرعی کی مسافت  چوں کہ سوا ستتر کلو میٹر ہے، اس لیے سوا ستتر کلو میٹر کے سفر کے لیے نکلنا عورت کے لیے  ممنوع ہو گا، اور بوقتِ ضرورت اس سے کم مسافت کے سفر کے لیے نکلنا جائز ہو گا،  لہذا  ستر کلو میٹر سے کے سفر کے لیے بوقتِ ضرورت نکلنا جائز تو ہو گا، لیکن  اگر ستر کلو میٹر سفر کرنے میں بھی عورت کو کسی قسم کے فتنے کا اندیشہ ہو (مثلاً شہر سے باہر تنہا رات گزارنے کی نوبت آتی ہو) تو   اتنی مسافت کا  سفر  بھی تنہاکرنے  کی اجازت نہیں ہوگی، کیوں کہ بعض احادیث میں ایک  دن رات کا سفر تنہا کرنے کی ممانعت بھی وارد ہوئی ہے۔

 حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: لایحل لامرأة مسلمة تُسافر مسیرة لیلة إلا ومعها رجلٌ ذو حُرمة منها".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205201506

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں