بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو القعدة 1441ھ- 08 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

کویل پرندہ حلال ہے یا حرام؟


سوال

کویل حلال ہے یا حرام؟

جواب

کویل پرندہ  پنجوں سے شکار کرکے کھانے والا پرندہ نہیں ہے، نہ مردار خور ہے، نہ زہریلا نقصان دہ ہے، نہ حدیث میں اس کو مارنے کی ممانعت آئی ہے اور نہ ہی اس کے قتل کا حکم ہے،  اور ایسے پرندوں کا کھانا شرعاً حلال ہے، لہذا کویل کا کھانا حلال ہے۔

"وما لا مخلب له من الطير فالمستأنس منه كالدجاج والبط ... ونحوها حلال بالإجماع". (بدائع الصنائع (5 /39)، کتاب الذبائح والصیود، المأکول وغیر المأکول من الحیوانات، ط: سعید) 

فتاوی عالمگیري، (5 / 289)، کتاب الذبائح، الباب الثاني في بيان ما يؤكل من الحيوان وما لايؤكل، ط: رشیدیه.

"ويجوز بالإجماع أكل الأنعام (الإبل والبقر والغنم) لإباحتها بنص القرآن الكريم، كما يجوز أكل الطيور غير الجارحة كالحمام والبط والنعامة والأوز، والسمان، والقنبر، والزرزور، والقطا، والكروان، والبلبل وغير ذلك من العصافير". (الفقه الإسلامي وأدلته، (4/147)  الباب السابع الحظر والاباحة، المبحث الأول: الأطعمة، ط: دارالفکر، سوریا، دمشق) فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144107201165

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں