بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا گندم سے مالدارو ں کاصدقہ فطروصوم ادا ہوسکتا ہے؟


سوال

صدقہ فطر اور فدیہ صوم میں اکثر لوگ وہی رقم دیتے ہیں جو گندم کی قیمت والی ہوتی ہے۔جبکہ سارے لوگ مالی اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔امراء بھی غرباء والا فطرانہ ادا کرتے ہیں کیا امراء کا صدقہ فطر اور فدیہ صوم اس طرح ادا ہو جاتا ہے؟ 

جواب

شریعتِ مطہرہ نے صاحبِ نصاب آدمی کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ گندم، جو، کھجور اور کشمش میں سے کسی ایک چیز سے صدقہ فطر ادا کر لے، وہ اگر  ان چاروں میں سے کسی بھی ایک سے ادا کرے گا تو صدقہ فطر ادا ہو جائے گا، لیکن اللہ تعالی نے جس آدمی کو استطاعت دی ہو  اور وہ صاحب حیثیت ہو، اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق زیادہ سے زیادہ صدقہ فطر ادا کرے ۔ اور جو شخص اللہ کے راستے میں جتنا زیادہ خرچ کرے گا اللہ تعالی اس کا اجر بڑھا چڑھا کر عطا فرمائیں گے،  بہرحال اگر مال دار آدمی گندم کے اعتبار سے صدقہ فطر ادا کرے گا، اگرچہ اس کی استطاعت اس سے زیادہ کی ہو   تب بھی اس کا صدقہ فطر ادا ہو جائے گا۔یہی حال فدیہ صوم کا بھی ہے۔

ہدایہ میں ہے:

"أما وجوبها فلقوله عليه الصلاة و السلام في خطبته: " أدّوا عن كلّ حرّ و عبد صغير أو كبير نصف صاع من بر أو صاعًا من تمر أو صاعًا من شعير". 

(الهدایة في شرح بدایة المبتدي،ج:1، ص:113، ط: دار إحیاء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101634

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں