بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

یہ جملہ کہنا کہ "کتنے صحابی ایسے ہیں جو صحابی ہونے کے باوجود جہنمی ہیں" گستاخی ہے


سوال

واٹس ایپ گروپ میں دو ساتھی آپس میں صحابہ کرام کے بارے میں  بحث مباحثہ کر رہے تھے ،میرے بھائی نے ان کو یہ کہہ کر خاموش کرنے کی کوشش کی  کہ"میرا بھائی برا نہیں مانئے گا،عشرہ مبشرہ تک ہر صحابی کا الگ الگ مقام ہے ،کسی کو تنقید نہ کرو، کسی کو برا مت کہو ، آپ کا جو عقیدہ ہے آپ اس پر چلو ،ہمیں اپنے عقیدہ پر چلنے دو،آپ کو پتہ ہے کہ کتنے صحابی ایسے ہیں جو صحابی ہونے کے بعد بھی جہنمی ہیں "۔

اس کے بعد بحث مباحثہ کرنے والوں نے میرے بھائی کو اس گروپ سے نکال دیا ،اور  "FIR" درج کروادیا،اور اسے پولیس پکڑ کر لے گئی۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ انہوں نے مذکورہ وائس میں جو  باتیں کی ہیں یہ گستاخی صحابہ کے تحت آتی ہیں یا نہیں ؟

جواب

اصطلاح میں صحابی اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس نے حالت ایمان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے ملاقات کی ہو اور ایمان کی حالت میں ہی اسے موت آئی ہو ، تمام صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم  سے اللہ تعالی نے اپنی رضا اور خوشنودی کا اعلان فرمایا ہے ،لہذا  جس شخص نے یہ الفاظ کہے ہیں "کہ کتنے صحابی ایسے ہیں جو صحابی ہونے کے باوجود جہنمی ہیں " یہ  شخص صحابہ کرام کی گستاخی کا مرتکب ہوا ہے،اگر اس شخص کی یہ عادت نہیں ہے بلکہ پہلی بار اس سے یہ غلطی ہوئی ہے،اور اب وہ اس پر دل سے نادم ہے اور آئندہ ایسے الفاظ نہ کہنے کا وعدہ کرتا ہے ،تو اس کی توبہ کا اعتبار کیا جائے گا ۔

اور اگر اس طرح صحابہ کرام کی گستاخی کا عادی ہے تو متعلقہ سرکاری اداروں کو اسے مناسب سزا دینی چاہیے، تاکہ دوسروں کو بھی عبرت ہو اور یہ سلسلہ تھم سکے،تاہم واضح  رہے کہ سزا دینے کا اختیار صرف ریاستی اداروں کو ہے،انفرادی طور پر کسی شخص کو اسے سزا دینے کااختیار نہیں ہے  ۔

قرآن کریم میں ہے :

"{وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ * فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ}."(سورة الحديد ،رقم الآية:7،8)

 مدارك التنزيل وحقائق التأويل میں ہے:

"[وَكُلاًّ أي كل واحد من الفريقين {وَعَدَ الله الحسنى} أي المثوبة الحسنى وهي الجنة مع تفاوت الدرجات]."

(سورۃ الحدید ، آیت نمبر:10،ج:3،ص:435،ط:دار الکلم الطیب)

نزہۃ النظر میں ہے:

"وهو مَن لَقِيَ النبي - صلى الله عليه وسلم - مؤمناً به، ومات على الإسلام، ولو تَخَلَّلتْ رِدَّةٌ في الأصح".

(تعریف الصحابی،ص:152،ط:المحقق)

تنبیہ الولاة و الحكام على أحكام شاتمخیرالأنامﷺ   میں  ہے:

"قال مالك رحمه تعالى: من شتم النبي ﷺ قتل، و من شتم أصحابه اُدِّب، و قال أیضاً: من شتم أحدًا من أصحاب النبي ﷺ أبابکر أو عمر أو عثمان أو معاوية أو عمرو بن العاص فإن قال : كانوا في ضلال و كفر قتل، و إن شتم بغير هذا من مشاتمة الناس نكل نكالًا شديدًا".

(الباب  الثاني في حكم ساب أحد الصحابة رضي الله عنهم،ص:168،ط:مركزالبحوث الإسلامي مردان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411100616

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں