بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کتاب کا کچھ حصہ پڑھنے کے بعد اس کو پوری قیمت پر فروخت کرنا


سوال

نئی کتاب یا نیا رسالہ جس کا کچھ حصہ پڑھ لیا جائے یا مکمل پڑھ لیا جائے، اس کو پوری قیمت پر بیچنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

فروخت کنندہ کو اختیار ہے کہ جس قیمت پر بیچنا  چاہے بیچ سکتا ہے، لہٰذا اگر خریدار مکمل قیمت پر خریدنے پر راضی ہو  تو مکمل قیمت  پر بیچنا جائز ہے۔

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"الثمن ‌المسمى ‌هو ‌الثمن ‌الذي ‌يسميه ‌ويعينه ‌العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقا للقيمة الحقيقية أو ناقصا عنها أو زائدا عليها."

(مجلة الاحكام العدلية، ص:33، ط:نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144405101135

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں