بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کسی متعین کام کے لیے جمع شدہ رقم کو دوسرے کام میں خرچ کرنے کاحکم


سوال

کسی متعین کام کے لیے چندہ کرکے کیا اس چندہ کی رقم کو دوسرے کام میں لگایا جاسکتا ہے ؟

مثلا کسی محفل کے لیے چندہ کرکے محفل ختم ہونے کے بعد بچ جانے والی رقم کو دوسرے کام جیسے مدرسہ مسجد کے کام میں خرچ کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟اگر جائز نہیں تو کیا جائز ہونے کی کوئی صورت ہے ،کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے بنگلہ دیش کی بہت بڑی بڑی دینی مدارس میں ایسامعاملہ کیا جاتا ہے کہ محفل وغیرہ کے لئے چندہ کرکے بچ جانے والی رقم کو دوسرے کام میں لگایا جاتا ہے۔

برائے مہربانی اس بارے میں تفصیل اور نصوص شرعیہ کے ساتھ اطلاع کیجئے تو بہت نوازش ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ جن کاموں کے لیے  چندہ کیا جائےتو  وہ رقم ان ہی کاموں میں صرف کی جائے ،دوسرے کاموں میں چندہ دہندہ گان  کی اجازت کے بغیرخرچ کرنا درست نہیں ۔

لہذا صورت مسئولہ میں  جو چندہ متعین مجلس   کے لیے   کیا گیا اور اس میں  روپے بچے ہوئے ہیں،  تو اسے چندہ دینے والوں کی اجازت کے بغیر اس رقم کومسجد کے کاموں میں یا کسی اور جگہ  خرچ کرنا شرعا جائز نہیں؛ اس لیے  کہ  چندہ جمع کرنے والے کی حیثیت محض امین اور وکیل کی ہے ۔

البتہ اگر چندہ ہندہ گان اس رقم کو  دوسری  جگہ میں خرچ کرنے کی اجازت دیں  یا ان کی طرف سے دلالۃ اجازت ہو تو پھرشرعاً ایسا کرنا جائز ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل."

(کتاب الزکات،ج:2،ص:269،سعید)

فتاوی تاتار خانیہ میں ہے :

"سئل أبو نصر عن رجل جمع مال الناس علي أان ينفقه في بناء المسجد فربما يقع في يده من تلك الدراهم فأنفقها في حوائجه ثم يرد بدلها في نفقة المسجد من ماله أيسع له ذلك ؟

قال:لا يسعه أن يستعمل من ذلك في حاجة نفسه فان عرف مالكه رد عليه وسأله تجديد الإذن فيه وإان لم يعرف إستأذن الحاكم فيما أستعمل وضمن."

(کتاب الوقف،ج:8،ص:177،مکتبہ رشیدیہ)

امدادالفتاوی میں ہے :

"سوال (۶۹۵):چندہ کے احکام وقف کے ہونگے یا مہتمم  تنخواہ  مقررہ سے زائد  بطور انعام وغیرہ کے دے سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب:یہ وقف نہیں ،معطیین کا مملوک ہے اگر اہل چندہ  صراحۃ یا دلالۃ  انعام دینے پر  رضامند ہوں درست ہے ورنہ درست نہیں ۔"

(کتاب لوقف ،ج:2،ص:560،ط:دارالعلوم کراچی )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501100106

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں