بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کسی مسجد کا نام ”مسجد نبوی“ رکھنا / کسی شخص کا نام ”اللہ محمد“ رکھنا


سوال

1۔ کسی مسجد کا”مسجد نبوی“ نام رکھنا کیسا ہے؟

2۔ کسی شخص کا ”اللہ محمد“ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

1۔صورتِ مسئولہ میں کسی مسجد کانام ”مسجدِ نبوی“ رکھنے میں چوں کہ تلبیس و تشویش اور مغالطہ کا قویّ اندیشہ ہے، اس لیے اس سے احتراز کیا جائے ، اس کے علاوہ کوئی اور مناسب نام رکھا جائے۔

فتاوٰی محمودیہ میں ہے:

”سوال: یہاں پر ایک مسجد ”مسجدِ حرام“ کے نام پر تعمیر ہورہی ہے،بعض حضرات اس کے نام سے اعتراض کر رہے ہیں کہ یہ نام مسجدِ حرم خانہ کعبہ کا ہے، اس لیے یہ نام بدل دیا جائے، آپ سے گزارش ہے کہ مسجد کا نام ”مسجدِ حرم “ رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟“

”جواب:غلام احمد قادیانی نے یہی تلبیس کی تھی کہ اپنا نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تجویز کیا، اپنی بیوی کا نام ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا نام تجویز کیا اور اپنی مسجد کانام سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کا نام تجویز کیا، اپنے قبرستان کا نام مدینہ پاک کے قبرستان کا نام تجویز کیا، اس طرح اس نے اپنی امت کو حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے بے نیاز و بے تعلق بنانے کی کوشش کی۔

اپنی مسجد کا نام آپ حضرات بھی ”مسجدِ حرم“ نہ رکھیں کہ بے علم مسلمانوں کو اس سے دھوکہ لگتا ہے اگر چہ آپ حضرات کی نیت تلبیس کی نہ ہو، تاہم دھوکہ اور مغالطہ سے بچنا ضروری ہے۔“

(باب أحکام المسجد: ج:14، ص:401، ط: ادارہ الفاروق، کراچی)

2۔ صورتِ مسئولہ میں کسی شخص کا  ”اللہ  یا اللہ محمد “ نام  رکھنا جائز نہیں، نیز  ان دوکلمات کے مجموعے کےساتھ   کسی کا نام رکھنا  عربی گرامر کے لحاظ سےبھی  صحیح نہیں ہے، اس کے علاوہ کوئی اور اچھا نام رکھا جائے، بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں میں سے کسی کا نام رکھ دیا جائے۔

اپنی اولاد کو اچھے نام رکھنے سے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

" عن سعید وابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: من ولد ولداً فلیحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فَلْیُزوجْه فإن بلغ ولم یزوجه فأصاب إثماً فإنما اإثمه علی أبیه."

(شعب الإیمان للبیهقيؒ،باب فی حقوق الأولاد والأهلین: ج:6، ص:401، ط: دار الکتب العلمية)

ترجمہ: ”حضرت ابو سعید خدری اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس کو اللہ تعالیٰ اولاد دے تو چاہئے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو اچھی تربیت دے اور سلیقہ سکھائے، پھر جب وہ سن بلوغ کو پہنچے تو اس کے نکاح کا بندوبست کرے، اگر (اس نے اس میں کوتاہی کی اور) شادی کی عمر کو پہنچ جانے پر بھی (اپنی غفلت اور بےپروائی سے) اس کی شادی کا بندوبست نہیں کیا اور وہ اس کی وجہ سے حرام میں مبتلا ہو گیا تو اس کا باپ اس گناہ کا ذمہ دار ہو گا۔“

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144403100945

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں